پنجاب یونیورسٹی ہاسٹلوں میں سرچ آپریشن، 16 افراد پولیس کے حوالے

لاہور (نامہ نگار) پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے ہاسٹل میں غیر قانونی طور پر مقیم 16 افراد کو پکڑ کر مسلم ٹائون پولیس کے حوالے کر دیا جبکہ پولیس نے ان کے خلاف کارروائی کی بجائے رہا کر دیا ہے جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب یو نیورسٹی کی انتظامیہ نے گذشتہ صبح ہاسٹلوں میں سرچ آپریشن کیا اور ہاسٹل نمبر 15 اور 18 میں غیر قانونی طور پر مقیم 16 غیر متعلقہ افراد کو پکڑ کر مسلم ٹائون پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق یہ افراد غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے اور ان میں سے چند افراد اپنی تعلیم مکمل کرنے کے باوجود کئی سالوں سے ہاسٹل کے کمروں پر غیر قانونی طور پر قابض تھے۔ پولیس نے پکڑے گئے تمام افراد کو تھانے لے جا کر کارروائی کی بجائے کچھ دیر بعد اعلیٰ افسروں کے احکامات پر تمام افراد کو باعزت رہا کر دیا۔ پولیس کے مطابق وہ تمام افراد ہاسٹلوں میں مقیم اپنے دوستوں کو ملنے آئے تھے۔ انہیں کارڈ چیک کر کے چھوڑ دیا گیا ہے۔ جس پر پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے ہاسٹل نمبر 18 میں غیر قانونی طور پر مقیم اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق ناظم راشد منظور کو غلط چھوڑا ہے۔ وہ گذشتہ تین سال سے ہاسٹل میں غیر قانونی طور پر مقیم تھا۔ اس کے خلاف پہلے بھی کئی مقدمات درج ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق ہاسٹل میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف سرچ آپریشن کا سلسلہ جاری رہے گا۔