پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، 51914 نشستوں کیلئے امیدواروں میں مقابلہ ہوگا

لاہور (خبر نگار) پنجاب میں 30 جنوری کو 4 ہزار  37 یونین کونسلوں اور 3470 وارڈوں میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے۔ 4037 یونین کونسل کی 48 ہزار 444 نشستوں پر امیدواروں کا چنائو کیا جائے گا۔ جبکہ 3470 وارڈوں کیلئے کونسلروں کا چنائو کیا جائیگا۔ اسی طرح 51914 نشستوں کیلئے امیدواروں میں مقابلہ ہوگا۔ چیئرمین اور وائس چیئرمین کے عہدے پر اکٹھے الیکشن لڑا جائیگا۔ اسی طرح امیدواروں کو انتخابی مہم کیلئے 16 روز ملیں گے۔ صوبائی محکمہ بلدیات نے ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں ہونیوالے انتخابات کے انتخابی شیڈول کے اجراء سے پہلے آخری ہفتے میں 125 سے زائد بلدیاتی افسران کی پوسٹنگ و تعیناتی امیدواروں اور ان کے ’’سرپرستوں‘‘ کی ایما پر کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ترقیاتی فنڈز کے استعمال پرپابندی عائد کردی ہے۔ مگر گزشتہ ماہ پنجاب حکومت نے لاہور سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگی ارکان اسمبلی کے حلقوں میں ایک ارب 60 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز ’’جاری ترقیاتی سکیموں کی تکمیل‘‘ کے نام پر جاری کئے جبکہ لاہور کے تمام ٹائونز نے گزشتہ دو ہفتوں میں 3 سے 15 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز کے ٹینڈر جاری کئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے پنجاب کے 35 اضلاع کیلئے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسروں، ریٹرننگ افسروں اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسروں کی تعیناتیوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ ڈی سی اوز کو ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر مقرر کیا گیا ہے جبکہ 691 ڈسٹرکٹ افسران، سب رجسٹراروں، ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسران، سینئرایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسران، ٹی ایم اوز کو ریٹرننگ افسران مقرر کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں 691 ٹی او، ٹی او، کونسل افسران اور ٹی او (آرز) کو اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران مقرر کیا گیا ہے۔