پنجاب اسمبلی: 6 قراردادیں منظور‘ جیلوں میں گنجائش سے ڈبل قیدی ہیں: صوبائی وزیر

لاہور (سپیشل رپورٹر+ خصوصی نامہ نگار+ کامرس رپورٹر+ ایجنسیاں)  پنجاب اسمبلی میں گزشتہ روز ارکان کی 6 قراردادیں متفقہ منظور کر لی گئیں تاہم معذروں کے کوٹہ کے حوالے سے پیش ہونے والی قرارداد میں ان کا ملازمتوں پر کوٹہ پانچ کرنے کی وزیرقانون کی وضاحت پر رکن نے کوٹہ پانچ فیصد کو قرارداد میں سے نکال دیا۔ محمد ثقلین انور سپرا کو قرارداد یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ انیمل سائنسز کے جھنگ میں واقع کیمپس کالج آف ویٹرنری سائنسز جھنگ کو یونیورسٹی کا  چارٹر دیدیا جائے اور اس یونیورسٹی کا نام میاں محمد نواز شریف ویٹرنری یونیورسٹی رکھا جائے۔ اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید کی قرارداد دلا بھٹی شہید کے مزار کو فوری طور پر تجاوزات و قبضہ سے پاک کیا جائے نیز وہاں مزار تعمیر کیا جائے۔ کنول نعمان نے قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ معذور افراد کے لئے روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے اقدامات اٹھائے جائیں۔ ثریا نسیم نے قرارداد پیش کی کہ گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو لیبر لاز کے تحت رجسٹر کیا  جائے اور ان کو بھی فیکڑیوں، کارخانوں  اور دیگر اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کی طرح سہولیات دی جائیں۔ راحیلہ خادم حسین نے قرارداد میں کہا کہ صوبہ میں بچے اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے خلاف موثر قانون بنایا جائے۔ ایک اور قرارداد بنگلہ دیش میں نام نہاد جنگی جرائم کے نام پر سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی مذمت کی گئی۔ اسمبلی میں متعدد تحریک التوائے کار پیش کی گئیں جن میں قبرستانوں میں ڈینگی، آشیانہ سکیم  میں گھروں کے مکمل نہ ہونے، قیدیوں میں ایڈز کے مرض میں اضافے کی تحاریک پینڈنگ کر دی گئیں۔ روزنامہ نوائے وقت کی خبر پر ڈاکٹر نوشین حامد نے تحریک التوائے کار پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب نے سال 2011ء میں آشیانہ ہائوسنگ سکیم لاہور کے غریب بے گھر لوگوں سرکاری ملازمین کے لئے شروع کی تھی۔ اس کے تقریباً 350 گھر مکمل ہو سکے بقایا نامکمل ہیں۔ جس پر وزیر نے کہا کہ اس تحریک کو پینڈنگ کر دیں۔ ایوان میں وزیر جیل خانہ جات چودھری عبدالوحید نے پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے 50، ٹی بی کے 103، ہیپاٹائٹس کے 14اور جیلوں میں گنجائش سے ڈبل سے بھی زائد قیدیوں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کی 32جیلوں میں صرف ایک جیل خواتین کیلئے ہے، جیلوں میں آنیوالی حاملہ خواتین کیلئے لیڈی ڈاکٹر سمیت تمام سہولتیں میسر ہوتی ہیں، پنجاب کی جیلوں میں 725بچے اور 881خواتین ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہاکہ پنجاب کی جیلوں میں 21ہزار 527قیدیوں کی گنجائش ہے تاہم اس وقت 48ہزار 127قیدی جیلوں میں قید ہیں اور لاہور کی ڈسٹرکٹ جیل میں قیدیوں کی گنجائش 1050ہے لیکن وہاں پر 2887قیدی موجود ہیں۔ قیدیوں کو یومیہ 59-61روپے فی کس کے حساب سے خوراک دی جاتی ہے۔ اپوزیشن نے سی این جی اور صنعتی سیکٹر کو اڑھائی ماہ کیلئے گیس کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے حکومتی فیصلے کے خلاف اسمبلی قرارداد پیش کرنے کا اعلان کیا۔ نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے اس قسم کے فیصلوں سے ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔