جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی عہدیداروں میں اختلاف شدت اختیار کرگئے

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی عہدیداروں میں باہمی اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ ذرائع کے مطابق جے یو پی کے سیکرٹری جنرل نے مرکزی صدر کی جانب سے نیٹو افواج سے مالی مدد اور مالی بدعنوانی کے الزامات پر صدر کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ دوسری جانب 28 دسمبر کو لاہور میں مرکزی شوریٰ کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں مرکز اور صوبوں سمیت تمام عہدوں کو تحلیل کر کے نگران مقرر کرنے پر غور کیا جائیگا۔ تفصیلات کے مطابق حال ہی میں جے یو پی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مرکزی صدر ڈاکٹر محمد زبیر کی عدم شرکت سے معاملہ سنگین صورت اختیار کرگیا جس کے بعد طرفین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مرکزی صدر کی جانب سے سیکرٹری جنرل پر ایک خط کے ذریعے الزام عائد کرنے کے بعد معاملہ میں مزید سنگینی آگئی جس میں کہا گیا تھا کہ سیکرٹری جنرل نے بیرون ملک سے آنے والی امداد کو نیٹو فوجیوں کے ذریعے وصول کر کے جے یو پی کی ساکھ کو داغدار کردیا اور حالیہ قومی انتخابات میں تحریک انصاف کی بجائے مسلم لیگ (ن) سے ’’ناکام محبت‘‘ کر کے پارٹی کا بیڑا غرق کردیا جس کے بعد مرکزی سیکرٹری جنرل نے اپنے صدر کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کیلئے قانونی مشاورت مکمل کر لی جس کے بعد بدھ یا جمعرات کو دعویٰ دائر کردیا جائیگا۔ سیکرٹری جنرل قاری زوار بہادر کا الزامات کے حوالے سے کہنا ہے کہ ڈاکٹر زبیر نے ورلڈ اسلامک مشن بلجیم سے آنیوالی سیلاب زدگان کیلئے آنیوالی ادویات کو نیٹو فوجیوں کی امداد قرار دیکر پارٹی اور مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ 28 دسمبر کو ڈاکٹر زبیر کی مشاورت سے اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں جمہوری اور آئینی انداز میں اہم فیصلے کئے جائیں گے۔