اسلام پورہ: کالج کی فیس نہ دے سکنے پر طالبہ بیٹی کو قتل کر کے خودکشی کر لی

اسلام پورہ: کالج کی فیس نہ دے سکنے پر طالبہ بیٹی کو قتل کر کے خودکشی کر لی

لاہور (نامہ نگار)  اسلام پورہ کے علاقہ میں حساس ادارے کے ریٹائرڈ ملازم نے کمزور مالی حالات اور کالج کی فیس نہ دے  سکنے پر دلبرداشتہ ہو کر بی اے آنرز کی طالبہ بیٹی کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے بعد خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی ہے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر متوفی کا لکھا ہوا خط اور پسٹل قبضے میں لے لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کرشن نگر سعدی روڈ مکان نمبر 267-P کا رہائشی 53 سالہ عاصم رشید عرف ببو، فوج کے الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت کرتا تھا۔ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے علاقے میں واقع ایک الیکٹریشن کی دکان میں نوکری کرنا شروع کر دی لیکن گھر میں مالی حالات ٹھیک نہ تھے جس کی وجہ سے پریشان رہتا تھا۔ اسکے تین بچے تھے، سب سے بڑی بیٹی  19سالہ سابین عاصم مقامی یونیورسٹی میں بی اے آنرز کی طالبہ تھی۔ اس سے چھوٹا بیٹا گوہر عاصم بھی طالب علم ہے اور سب سے چھوٹی بیٹی فرح عاصم سکول میں زیر تعلیم ہے۔ بچوں کی سکول کالج کی فیس دینا اس کیلئے مشکل ہو گیا تھا جس کی وجہ سے پریشان رہتا تھا۔ تین مرلہ مکان میں عاصم رشید، اسکی بیوی بچے اور اسکا چھوٹا بھائی عامر رشید بھی اکٹھے رہائش پذیر تھے۔ گزشتہ صبح سویرے عاصم رشید نے ایک خط لکھا جس میں اس نے تحریر کیا کہ وہ گھریلو مالی پریشانیوں کے باعث بے حد پریشان ہے کسی نے بھی سہارا نہ دیا، بچوں کی فیس، انکی چھوٹی چھوٹی معصوم خواہشیں بھی پوری نہ کر سکا، یہ سب کچھ دیکھنے کی ہمت نہیں اور میری بڑی بیٹی جو سب سے لاڈلی ہے، میری پریشانی کو نہیں دیکھ سکتی اسلئے باپ بیٹی ذہنی طور پر بے حد پریشان ہیں جس کی وجہ سے میں اپنی بیٹی کو مار کر خود کشی کر لوں گا لہٰذا کسی کو پریشان نہ کیا جائے۔ متوفی کے خط پر تاریخ اور دستخط موجود تھے۔ اسکے بعد عاصم رشید کمرے میں گیا جہاں اس نے سوئی ہوئی بیٹی کو گردن میں گولی مار کر اپنی کنپٹی پر گولی مار کر خود کشی کر لی، گولیوں کی آوازیں سن کر اہل خانہ جمع ہو گئے اور گھر میں چیخ و پکار شروع ہو گئی جس پر محلے دار بھی اکٹھے ہو گئے۔ سابین عاصم سانس لے رہی تھی، محلے داروں نے اسے مقامی ہسپتال پہنچایا جہاں وہ دم توڑ گئی جبکہ عاصم موقع پر ہی دم توڑ چکا تھا۔ یہ خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پولیس نے متوفی کے بیٹے گوہر عاصم کے بیان پر متوفی عاصم رشید کے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق متوفی اگر مالی پریشانیوں کی وجہ سے پریشان تھا تو اسکو اپنی بیٹی کو قتل کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی جبکہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ اسکو اپنی بیٹی کے چال چلن پر شک تھا، اسے غیرت کے نام پر بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔ محلے داروں کے مطابق عاصم رشید انتہائی شریف شخص تھا، لیکن عاصم رشید گزشتہ چند روز سے پریشان دکھائی دیتا تھا، وہ دکاندار سے لئے گئے ادھار سامان کی رقم بھی ادا نہیں کر سکا تھا۔