آزاد میڈیا جمہوریت کیلئے ناگزیر ہے : حمید نظامی پریس انسٹیٹوٹ میں سیمینار

لاہور (کلچرل رپورٹر + سپیشل رپورٹر) پاکستان اس وقت تاریخ کے بدترین سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ عالمی برادری کو چاہئے کہ پاکستان کا قرضہ معاف کر دے۔ میڈیا کو چاہئے کہ یہ اپیل عالمی برادری تک پہنچائے۔ میڈیا آزاد ہونا چاہئے جو جمہوریت کےلئے ناگزیر ہے لیکن میڈیا کو ذمہ دارانہ صحافت کرنی چاہئے۔ ہر شعبے میں تطہیر ہونی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے گذشتہ روز حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے زیراہتمام یوم آزادی کے حوالے سے ”آزاد پاکستان اور آزاد میڈیا، بقائے جمہوریت کے تقاضے“ کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار میں کیا۔ جس کی صدارت سابق وفاقی وزیر سیدہ عابدہ حسین نے کی۔ مہمانان خصوصی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ اور شعبہ حالات حاضرہ پی ٹی وی کے سربراہ ضیاءالرحمان امجد تھے۔ مقررین میں صدر سی پی این ای خوشنود علی خان، ڈائریکٹر آئی سی ایس پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر احسن اختر ناز، چیف رپورٹ نوائے وقت سلمان غنی اور سیاسی تجزیہ کار اشرف شریف تھے۔ نظامت کے فرائض ڈائریکٹر حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ آف پاکستان ابصار عبدالعلی نے انجام دیئے۔ سابق وفاقی وزیر سیدہ عابدہ حسین نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ پرنٹ میڈیا پر کافی حد تک ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے تاہم الیکٹرانک میڈیا نے کوئی بہتری نہیں آئی اور زیادہ تر اینکر پرسنز کی معلومات درست نہیں ہوتیں۔ صدر آصف علی زرداری ایسے حالات میں باہر نہیں جانا چاہئے تھا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ آج میڈیا نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ واقعی ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ کرپشن کو ختم کرنا ہوگا۔ پی ٹی وی کے ضیاءالرحمان امجد نے کہا کہ ہم حقیقت میں آزاد نہیں ہیں کیونکہ ہم نے افکار قائداعظمؒ کو آگے نہیں بڑھایا۔ سی پی این ای کے صدر خوشنود علی خان نے کہا کہ کوئی میڈیا گروپ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا ہے کہ میں آزاد ہوں اس وقت جتنی لڑائیاں جاری ہیں وہ سب اشتہارات کے لئے ہیں۔ اور جس گروپ نے آزادی صحافت کا پرچم اٹھا رکھا ہے وہ اجارہ داری قائم کر نا چاہتا ہے یہ کیا آزادی صحافت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صحافی دیکھنا ہے تو مجید نظامی کو دیکھے میں ایک واقعہ سنانا چاہتا ہوں کہ میں مجید نظامی ، رحیم اللہ یوسف زئی نواز شریف کے ساتھ امریکہ گئے تو ان کو وائٹ ہاوس کے اندر جانے سے روک دیا گیا ہو ا یہ کی راءنے موساد کے ذریعے سی آئی اے کو کہا کہ یہ خطرناک پاکستانی ہیں اسلئے ان کا وائٹ ہاوس جانا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی پاکستانی اخبار نے سٹوری نہیں دی کہ دو امریکی بھی ائیر بلیو کے اس جہاز میں تھے اور وہ کیا کرنے اس طیارے میں گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پریس کونسل کے لئے نام مانگے میں نے مجید نظامی سمیت سینئر اخبار نویسوں کے نام دے دئیے اب حکومت خود یہ نام سن کر بھاگ گئی ہے کیونکہ ان کو اس کے بعد اطلاعات کی رسائی تک کا قانون بنانا پڑے گا۔ روزنامہ نوائے وقت کے چیف رپورٹر اور وقت ٹی وی کے اینکر سلمان غنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیکن میڈیا کہ مادر پدر آزادی کے خلاف ہوں کیونکہ ہم پہلے مسلمان ، پھر پاکستانی پھر اخبار نویس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی اشرفیہ اقتدار کے لئے مفاہمت کے لئے تیار رہتی ہے اس کا جھکاو ملکی بیرونی قوتوں کی طرف ہے۔ ڈائریکٹر کمیونیکیشن سڈیزپنجاب یونیورسٹی احسن اختر ناز نے کہا کہ میڈیا کسی حکومت کے دورمیں چاہیے وہ آمر کی حکومت ہویا کوئی جمہوری آزاد نہیں رہا ہے۔اشرف شریف نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ میڈیا کوذمہ داری دی جارہی ہے کہ وہ جمہوریت کے تحفظ کے لئے کر دار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جو خطراک لاحق ہیں اس میں میڈیا کو بھی بیٹھ کر اپنی پالیسی وضع کر نی چاہیے۔ ڈائریکٹر حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ ابصار عبدالعلی نے کہا کہ میڈیا پرسن کا کام ہے کہ وہ سچ بولے اور اس پر قائم رہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اس دور میں الیکٹرنک میڈیا پرنٹ میڈیا پر غالب آگیا ہے۔ تاہم پرنٹ میڈیا کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔