لوڈشیڈنگ جاری‘ روزہ دار بے حال‘ گرمی سے مزید 2 افراد ہلاک‘ بجلی مہنگی کرنے کی سمری تیار

لاہور + اسلام آباد (نامہ نگاران+ نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں رمضان کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ میں مزید شدت آگئی ہے جس کے باعث روزہ دار بے حال ہو گئے۔ شارٹ فال 6 ہزار میگاواٹ سے بھی تجاوز کر گیا ہے جبکہ سحر و افطار کے دوران بجلی کی بندش کا سلسلہ گذشتہ ر وز بھی جاری رہا اور روزہ داروں اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی شہروں اور دیہات میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 سے 18 گھنٹے تک پہنچ گیا جبکہ لوڈشیڈنگ کیخلاف کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے جبکہ شدید گرمی سے مزید 2افراد دم توڑ گئے ہیں۔ وزارت پانی و بجلی نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی سمری تیار کر لی ہے۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ سبسڈی میں کمی کے ذریعے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پاکپتن سے نامہ نگار کے مطابق سحر و افطارسمیت جاری واپڈا کی بدترین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شہریوں نے واپڈا کمپلیکس کا گھیرائو کرکے اس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ  سے نامہ نگار کے مطابق شہر اور گردونواح میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل بندش کا سلسلہ بد ستور جاری ہے اور لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 18گھنٹے سے تجاوز کرگیا ہے۔ کامونکے سے نامہ نگار کے مطابق انتہائی کم وولٹیج اور بجلی کی بار بار بندش پر دیہاتی سراپا احتجاج بن گئے۔ موہن پور فیڈر کے درجنوں دیہات سرانوالی، دھینسر، موہن پور، سکھانا باجوہ، دندیاں سمیت متعدد دیہاتوں میں بجلی کی بار بارش بندش پر لوگ سراپا احتجاج بن گئے۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق  نارنگ منڈی و گردونواح میں  بجلی کی لوڈشیڈنگ بدترین صورتحال اختیارکرگئی، شدید گرمی سے خاتون رقیہ بی بی اور اللہ رکھا دم تو گئے جبکہ افطاری اور سحری کے وقت بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ نے روزہ داروں کو رلادیا، نارنگ منڈی میں جگہ جگہ واپڈاکے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور عوام حکومت کو کوستے رہے۔ سرحدی علاقہ میں ایک خاتون کی میت کو نہلانے کیلئے دوسرے گائوں سے پانی لانا پڑا محلہ شریف پورہ کا ٹرانسفارمر پھر جل جانے سے شہریوں نے واپڈاکے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پتوکی سے نامہ نگار کے مطابق رمضان المبارک میں حکومتی اعلان کے باوجود اوقات نماز اور نماز تراویح میں لوڈشیڈنگ جاری رہی، سخت گرمی اور لوڈشیڈنگ کے باعث نمازیوں کا بُرا حال ہو گیا اور حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ ننکانہ صاحب سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق ننکانہ صاحب اور گردونواح میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے، شہر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12تا 14جبکہ دیہات میں 14تا 16گھنٹے سے بھی تجاوز کر جانے کے باعث قیامت خیز گرمی اور شدید حبس میں روزہ دار بلبلا اٹھے، شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ علاوہ ازیں شہر کے مختلف علاقوں میں صبح سحری اور افطاری کے اوقات میں گیس کا پریشر انتہائی کم ہو جانے کے باعث خواتین کو روزہ کی تیاری میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ کوٹ رادھاکشن سے نامہ نگار کے مطابق کوٹ رادھاکشن اور گردونواح میں 16گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے لوگوں کو بُرا حال کر دیا ہے جبکہ گھریلو خواتین کو سحری افطاری کے دوران لوڈشیڈنگ سے شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی سمری منظوری کے لئے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھیجی جائے گی۔ بجلی کی قیمتوں کی سمری وزارت خزانہ کی مشاورت سے تیار کی گئی۔ ماہانہ 201 سے 300 یونٹ والوں کیلئے ایک روپیہ 30 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تجویز ہے گھریلو صارفین کے لئے ماہانہ 200 یونٹ استعمال تک بجلی کی قیمتوں برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔ ماہانہ 301 سے 700 یونٹس اور 700 سے زائد یونٹس استعمال کرنے والوں کیلئے قیمتیں برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے۔ زرعی ٹیوب ویلز کیلئے بجلی 2 روپے 50 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔