سبسڈی دینے کے باوجود مہنگائی کنٹرول نہیں ہو رہی، حکومت صرف کہانیاں سنا رہی ہے: لاہور ہائیکورٹ

سبسڈی دینے کے باوجود مہنگائی کنٹرول نہیں ہو رہی، حکومت صرف  کہانیاں سنا رہی ہے: لاہور ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ سبسڈی دینے کے باوجود رمضان میں بھی مہنگائی کنٹرول نہیں ہو رہی، حکومت صرف کہانیاں سنا رہی ہے، حکومتی سبسڈی سیدھی بڑے آدمی اور مافیا کے پیٹ میں جا رہی ہے، ملک میں بدمعاش مافیا چھایا ہوا ہے، یہ مافیا عدالت سمیت ہر کسی پر اثرانداز ہوتا ہے اور بھلائی کے ہر کام میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ فاضل عدالت نے یہ ریمارکس مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف دائر رٹ درخواست کی سماعت کے دوران دئیے۔ لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس خالد محمود خان نے کیس کی سماعت کی۔ عدالتی حکم پر ڈی سی او نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ رمضان بازاروں میں مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے موثر اقدامات کئے گئے جبکہ لاہور میں چھاپے مار کر مصنوعی مہنگائی کرنے والے 650دکانداروں کو گرفتار کیا گیا۔ 458مقدمات درج کئے گئے اور 192دکانداروں کو سزائیں دی گئیں، مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے ضمن میں1170شکایات موصول ہوئیں۔ جن میں سے992پر فوری کارروائی کی گئی۔ شہریوں کیلئے ایس ایم ایس اور ٹول فری سروس کا بھی اجراء کیا گیا۔  مہنگائی کے ذمہ داروں کو23 لاکھ سے زائد کے جرمانے بھی کئے گئے۔ فاضل عدالت نے ڈی سی او سے استفسار کیا کہ سستے رمضان بازاروں سے کیا بڑی دکانیں بند ہو گئیں۔ اگر رمضان بازاروں میں سستی اور معیاری اشیاء مل رہی ہوتیں  تو بڑے دکانداروں پر اس کا اثر ضرور پڑتا۔ درخواست گزار محمد اظہر صدیق نے فاضل عدالت کو بتایا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہر طرح کی اجناس شہریوں کی دسترس سے دور کر دی گئی ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ بیچارے لوگ دس روپے کے فائدے کے لئے دس میل کا سفر کرتے ہیں مگر ہر آدمی کی شکایت ہے کہ سبسڈی دینے کے باوجود مہنگائی کنٹرول نہیں ہو رہی۔ عدالت کے علم میں ہے کہ امپورٹ کیا جانے والا آلو عوام کو ملنے کی بجائے میکڈونلڈ اور کے ایف سی میں جاتا ہے۔  عدالت نے پنجاب حکومت اور ڈی سی لاہور کو مہنگائی کنٹرول کرنے کے حوالے سے تحریری طور پر تجاویزاور میکنزم عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت 16 جولائی تک ملتوی کر دی۔