ایم کیو ایم کے نام پر بھتہ مانگنے والے 2 تعلیم یافتہ نوجوان، 28 ڈاکو گرفتار

لاہور (سٹاف رپورٹر) سی آئی اے لاہور نے ایم کیو ایم کے جعلی لیٹر پیڈ پر خط لکھ کر صنعتکاروں اور تاجروں سے بھتہ طلب کرنیوالے اعلیٰ تعلیم یافتہ 2 ملزموں اور 28 ڈاکوئوں کو گرفتار کر کے ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کی نقدی، گاڑیاں، لیپ ٹاپ، موٹر سائیکلیں، موبائل فونز اورجدید آتشیں ناجائز اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن عبدالرب چوہدری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم افضل سافٹ ویئر انجینئر اور عمران مکینیکل انجینئر ہے جنہوں نے اپنی قابلیت کو غلط کاموں کیلئے استعمال کیا۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے جعلی لیٹر پیڈ پر بڑے صنعت کاروں اور تاجروں سے بھتہ مانگا۔ وہ خط میں پستول کی گولیاں بھجوا کر دھمکی دیتے تھے کہ اگر انہیں رقم نہ بھجوائی گئی تو ان کو معہ اہل و عیال قتل کر دیا جائے گا۔ ملزموں نے شفیع انڈسٹری کے مالک محمدطارق سے 20 لاکھ روپے طلب کئے جس کا مقدمہ تھانہ قائداعظم انڈسٹریل ایریا میں درج ہوا جس کی تفتیش سی آئی اے کو سونپی گئی تو ڈی ایس پی سی آئی اے نواں کوٹ فیاض احمد نے نہایت مہارت سے ملزموں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر کے ان سے ان وارداتوں میں استعمال ہونے والا موبائل فون، سم کارڈ اور ایم کیو ایم کا لیٹر پیڈ برآمد کر لیا جنہوں نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ انہوں نے ایک فیکٹری کے مالک سے 30 لاکھ روپے اور گوجرانوالہ کے رہائشی حافظ لقمان سے 20 لاکھ روپے بھتہ مانگا۔ ایس ایس پی نے حافظ اشرف اور عتیق الرحمن عرف باقی ڈکیت گینگز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گرفتار ملزموں میں حافظ اشرف، رمضان عرف جانی، اجمل طارق، عمران، ساجد، حسیب تابش، عمر افضل، لیاقت عرف بابا، عتیق الرحمن عرف باقی، تنویر، فیاض عرف ماما، کامران، امانت عرف اقبال، ارشد بھوگ، لیاقت علی، شرافت علی، محمد احمد عرف علی، محمد ندیم، غفار عرف ماما کالی، ساجد علی، شاہد عرف اقبال، اللہ وسایا عرف گوگی، محمد شفیق اور شکیل شامل ہیں۔ ملزموں نے تھانہ جھنگ بازار فیصل آباد کے ایس ایچ او مظہر الحق کے گھر ڈکیتی کی واردات کے بعد اس کی بیوی صائمہ اور 2 سالہ بچی کو گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا تھا اور ان سے 30 لاکھ روپے تاوان وصول کرنے کے بعد انہیں رہا کیا جبکہ گرفتار ملزموں نے ایس ایچ او سمن آباد لاہور کے گھر ڈکیتی کے علاوہ کی درجنوں وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ عبدالرب چوہدری نے مزید بتایا کہ سی آئی اے پولیس نے ہی ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان آذر لطیف ایڈووکیٹ کے گھر نواب ٹائون میں بطور ڈرائیور اور گھریلو ملازمہ ملازمت حاصل کر کے گن پوائنٹ پر واردات کرنے والی 2 خواتین سمیت 4 ملزموں مزمل اختر، حیدر علی، صائمہ عرف اسماء اور فاطمہ کو گرفتار کر کے ان کی نشاندہی پر تقریباً 13 لاکھ روپے نقد، ایک کار، لیپ ٹاپ اور ناجائز اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ ایس ایس پی انوسٹی گیشن نے خطرناک ملزموں کی گرفتاری پر ڈی ایس پی سی آئی اے نواں کوٹ فیاض احمد کی ٹیم کیلئے نقد انعام اور سرٹیفکیٹ کا بھی اعلان کیا۔