گرمی بڑھتے ہی لوڈ شیڈنگ میں مزید اضافہ، کوئٹہ میں شٹر ڈائون

لاہور+ اسلام آباد+ کوئٹہ (آن لائن+ نامہ نگاران) گرمی کی شدت بڑھتے ہی لوڈشیڈنگ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور شہروں اور دیہات میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18 گھنٹے تک پہنچ گیا جس کے باعث لوگ بلبلا اٹھے۔کوئٹہ میں طویل لوڈشیڈنگ کیخلاف شہر میں مکمل شٹر ڈائون رہا اور ہڑتال کے باعث دکانیں بند ہونے کے باعث لوگوں کو خریداری میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ این ٹی ڈی سی ذرائع کے مطابق بجلی کی پیداوار 9560 اور طلب 12900 میگاواٹ ہے جبکہ 3040 میگاواٹ شارٹ فال کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق بڑے ڈیموں سے پانی کا اخراج کم ہونے سے پن بجلی کی پیداوار 6 ہزار میگاواٹ کے بجائے صرف 1600 میگاواٹ ہو رہی ہے تاہم گندم کی کٹائی کے بعد زرعی ضروریات کیلئے پانی کا اخراج بڑھنے سے بجلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائیگا۔ ادھر نیپرا نے ’کے‘ الیکٹرک کے بجلی کے تین پیداواری یونٹ بند کرنے کی منظوری دیدی۔ 175 میگاواٹ بجلی کی پیداوار بند ہوگئی۔ نیپرا نے کے الیکٹرک کی درخواست پر لائسنس میں ترمیم کر دی ہے جس سے 175 میگاواٹ بجلی کی پیداوار بند ہو گئی۔ 150 میگاواٹ کے حامل کورنگی سٹیشن کے یونٹ نمبر 1 اور 3 بند ہوگئے جبکہ 25 میگاواٹ کا سائٹ یونٹ بھی بند کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ نیپرا کے مطابق کے الیکڑک کے بند کئے جانیوالے پیدا واری یونٹس 30 تا 42 سال کی مدت پوری کرچکے تھے۔ چک امرو سے نامہ نگار کے مطابق گرمی میں شدت بڑھتے ہی طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور 18 سے 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی گئی جس پر لوگ سراپا احتجاج بن گئے۔ ادھر کوئٹہ میں آل پارٹیز اور قبائلیوں کی جانب سے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کیخلاف مکمل شٹرڈائون کیا، مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنمائوں اور شہریوں نے کیسکو کے خلاف دھرنا دیتے ہوئے کہا کہ طویل لوڈشیڈنگ کے باعث بے حال ہو چکے ہیں۔ یہاں گرمی کی شدت 49 سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ 18 گھنٹے تک بجلی کی بحالی کے احکامات جاری نہیںکئے گئے تو 14اپریل کوکوئٹہ تفتان شاہرہ کوہرقسم کے ٹریفک کیلئے بند کرینگے۔