کراچی :ضمنی الیکشن، تحریک انصاف خوف ختم کرکے ووٹ بینک بڑھانے کیلئے بے چین

لاہور (سید شعیب الدین سے) حالیہ واقعات کے پیش نظر کیا کراچی میں ہونیوالا ضمنی انتخاب پرامن ہوگا یا حالات ایسے کروٹ بدلیں گے کہ کراچی کے عوام کو پھر کسی مشکل کا سامنا ہوگا۔ ایم کیو ایم اپنے روایتی حلقے میں کسی دوسرے کی کامیابی اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں اپنی اجارہ داری پر کوئی سمجھوتہ کرنے پر تیار نظر نہیں آرہی ہے جبکہ تحریک انصاف اپنا خوف ختم کرکے اپنی پارٹی کے ووٹ بینک میں اضافہ کیلئے بے چین نظر آتی ہے۔ تحریک انصاف کی کراچی میں بھرپور مہم کے بعد مقابلہ اب ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان ہے اور ایم کیو ایم کے پرانے حریف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) خاموش بیٹھے تماشہ دیکھ رہے ہیں جبکہ خیبر پی کے میں تحریک انصاف کی حلیف جماعت اسلامی اب این اے 246 میں اپنے امیدوار کو مقابلے سے دستبردار کرانے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی اور تحریک انصاف میں بات چیت آخری مراحل میں ہے۔ اگر جماعت اسلامی نے اپنا امیدوار دستبردار کرا لیا تو یہ عمران اسماعیل کیلئے ایک مثبت پیشرفت ہوگی۔ تحریک انصاف کی پارلیمنٹ میں واپسی کے دن سے سیاسی انتشار کا نیا مرحلہ شروع ہوگیا۔ ایک طرف وزیراعظم نے عمران خان سے مصافحہ کرکے خیرمقدم کیا، دوسری طرف خواجہ آصف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کے ہاکس نے عمران خان اور تحریک انصاف کیلئے جو زبان استعمال کی وہ پارلیمانی اقدار کے منافی تھی۔ دوسری طرف ایم کیو ایم کی قیادت سے تحریک انصاف کے اختلافات نے اس وقت نیا رخ اختایر کرلیا جب عمران اسماعیل نے جناح گرائونڈ سے الیکشن مہم کا آغاز کیا۔ انکا یہ اقدام ایم کیو ایم کے نزدیک ناقابل برداشت تھا چنانچہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے مابین باہمی تصادم کے جو مظاہرے دیکھے گئے اس نے سیاسی پنڈتوں کو حیران اور پریشان کرڈالا۔ آصف زرداری نے گزشتہ روز جو پریس کانفرنس کی اس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنی جماعت اور اپنی ذات کو کراچی کی موجودہ صورتحال سے الگ رکھنا چاہتے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے روئیے سے تو صاف لگتا ہے کہ ایم کیو ایم کے مقابلے کیلئے اسکے نزدیک تحریک انصاف ہی بہترین چوائس ہے۔