ضلعی عدالتوں میں لوڈشیڈنگ جوڈیشل پالیسی کے ہدف حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ

لاہور(ایف ایچ شہزاد سے) پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں لوڈشیڈنگ جوڈیشل پالیسی میں مقررہ ہدف حاصل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی۔ اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کے باوجود عدالتی اوقاتِ کار کے درمیان بڑے شہروں میں تین اور چھوٹے شہروں کی ماتحت عدالتوں میں پانچ گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منظور احمد ملک نے حکام کو عدالتی اوقات کار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا شیڈول بنانے کی ہدایت کی ہے۔ پنجاب کے 37 اضلاع کی ماتحت عدالتوں میں گزشتہ تین برسوں کے دوران لوڈشیڈنگ کے باعث 70 ہزار سے زائد مقدمات کی سماعت متاثر ہوئی۔ 20 فیصد زیرالتوا مقدمات لوڈ شیڈنگ کے باعث نہیں نمٹائے جاسکے۔ ماتحت عدالتوں کی طرف سے اعلیٰ عدلیہ کو بھجوائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماتحت عدلیہ کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دینے یا اس بارے میں متبادل انتظام کے بغیر مقررہ مدت میں زیر التوا مقدمات نمٹانے کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں۔ بیشتر اضلاع میںلوڈشیڈنگ کے متبادل انتظامات نہ ہونے کے باعث گرائونڈ فلورز کی عدالتیں مکمل تاریکی میں ڈوب جاتی ہیں جبکہ دیگر فلورز پر بھی ناکافی روشنی جوڈیشل افسروں کو سماعت موخر کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔ چھوٹے شہروں میں عدالتی اوقات کار میں چند گھنٹے بجلی آتی ہے۔ فاضل جج صاحبان موم بتی کی روشنی میں سٹینو گرافرز کو آڈرز لکھوا بھی دیں تو وہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بروقت ٹائپ نہیں ہوپاتے جس سے ایک طرف سائلین کو اپیلیں اور اجرا سمیت دیگر قانونی کارروائی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ عدالتی اہلکار بھی شام 7 بجے تک کام کرنے پر مجبور ہیں۔ لوڈشیڈنگ کے دوران مثل معائنہ،حصول نقل،سمن و نوٹسز کے اجرا اور دیگر کارروائی کیلئے سائلین کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نقل برانچ کی مشینیں بند ہونے سے احاطہ عدالت میں جنریٹر پر چلنے والی فوٹو کاپی مشینوں پر ایک کاپی کیلئے تین روپے وصول کئے جاتے ہیں۔ کچہریوں میں ریمانڈ اور ضمانت کیلئے آئے ہوئے قیدیوں کو گھنٹوں پولیس وین اور بخشی خانوں میں بند رہنا پڑتا ہے۔ باری نہ آنے پر درجنوں مقدمات کی سماعت کسی کارروائی کے بغیر ملتوی کرنا پڑتی ہے۔