سی آئی اے کی کارروائی‘کالعدم تنظیم کا رہنما حافظ ثنا عرف قاری ضرار گرفتار

لاہور (نامہ نگار) سی آئی اے پولیس نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما حافظ ثنا اللہ عرف قاری ضرار کو گرفتار کرلیا۔ ملزم راولپنڈی اور لاہور دیگر شہروں کے معروف کے تاجروں سے کروڑوں روپے بھتہ طلب کرنے اور بھتہ نہ دینے کی صورت میں ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کرنے کی وارداتوں میں ملوث تھا۔ اسکے علاوہ ملزم وزیرستان اور افغانستان میں عسکری کاروائیوں میں بھی ملوث رہا ہے اور تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔ ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک نے پولیس ٹیم کے ہمراہ ملزم کو لاری اڈا سے گرفتار کیا۔ دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ ملزم کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان اور حرکت المجاہدین سے ہے۔ ملزم نے سال 1995ء میں خوست افغانستان میں تین ماہ ٹریننگ کی۔ دوران ٹریننگ ملزم نے اسلحہ کھولنا جوڑنا، پسٹل، کلاشنکوف، پیکا گن، سیمی نوف گن اور راکٹ لانچر چلانے کی تربیت حاصل کی۔ 1997ء میں ملزم نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان کی طرف سے عسکری کاروائیوں میں حصہ لیا۔ 1998ء میں ملزم حرکت المجاہدین کی طرف سے ڈیرہ اسماعیل خاں میں بطور ناظم، 2000ء میں کالعدم تنظیم حرکت المجاہدین پشاور کا کمانڈر رہا۔ ملزم شنکیاری مانسہرہ ٹریننگ سنٹر میں بھی ٹریننگ حاصل کرتا رہا۔ 2005ء سے کالعدم تنظیم حرکت المجاہدین کے مرکزی دفتر مدرسہ خالد بن ولید گولڑہ شریف میں ناظم رہا۔ حرکت المجاہدین کے امیر فضل الرحمن خلیل کا بااعتماد ساتھی ہے۔ ملزم نے دوران تفتیش یہ بھی بتایا کہ 2009ء میں ملزم نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پنجابی گروپ سے ملکرکرنل امام، کرنل خالد خواجہ، صحافی اسد قریشی اور اسکے ہیلپر کو اغوا کیا۔ تاوان نہ ملنے پر کرنل امام اور کرنل خالدخواجہ کو قتل کردیا اور ایک کروڑ 40 لاکھ روپے تاوان وصول کر کے صحافی اسد قریشی اور اسکے ہیلپر کو چھوڑ دیا۔ 2011ء میں ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ لورالائی بلوچستان سے خفیہ ایجنسیوں کے دو حوالداروں کو اغوا کیا ایک حوالدار کو شہید کردیا جبکہ دوسرے حوالدار کو ایک کروڑ روپے تاوان لیکر چھوڑا۔ قاری ثنا اللہ اور اسکے ساتھیوں نے ہی ایک این جی او کے پانچ چھ افراد کو اغوا کیا، ان میں سے ایک کو ہلاک کردیا جبکہ بقایا مغویوں کو ایک کروڑ 75 لاکھ روپے وصول کر کے چھوڑا۔ 2011ء میں ہی کوہاٹ کے علاقہ لاچی سے مزدور عبدالحمید کو انجینئر سمجھ کر اغوا کیا اور 15 لاکھ روپے تاوان وصول کرکے اسے چھوڑا۔ اسی سال ملزم نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ضلع ٹانک سے واپڈا کے ایک انجینئر اور چار پانچ اہلکاروں کو اغوا کیا اور انہیں ایک کروڑ روپے تاوان لیکر چھوڑا۔ 2012ء میں ملزم نے درویش کنسٹرکشن کمپنی کے تین مزدوروں کو اغوا کیا جنہیں 60 لاکھ روپے تاوان لیکر چھوڑا۔ ملزم نے 2013ء میں درویش کنسٹرکشن کمپنی کے مالک سے بھتہ مانگا اور انکار پر اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس پر ہینڈ گرنیڈ سے حملہ بھی کیا تھا۔ علاوہ ازیں ملزم نے شو فیکٹری کے مالک بشارت بھٹی سے 50 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا تھا اور بھتہ نہ دینے کی صورت میں فیکٹری کو بم سے اُڑانے کی دھمکیاں دیں تھیں۔