خیبر پی کے میں بلدیاتی الیکشن سے قبل بلاک شناختی کارڈ کھولے جائیں: سراج الحق

خیبر پی کے میں بلدیاتی الیکشن سے قبل بلاک شناختی کارڈ کھولے جائیں: سراج الحق

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کاشغر، گوادر روٹ میں وفاقی حکومت کی طرف سے تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کاشغر، گوادر روٹ کو متنازعہ بنا کر حکمران ملک کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ قوم کو آگاہ کیا جائے کاشغر، گوادر روٹ کو کیوں تبدیل کیا جا رہا ہے؟ پیسکو نے ناروا لوڈشیڈنگ بند نہ کی تو پھر مجبوراً جماعت اسلامی کو سخت فیصلہ کرنا پڑیگا۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ تو 20,20 گھنٹے ہوتی ہے لیکن بجلی کے بلوں میں کبھی لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی۔ نادرا ملک بھر میں بلاک شدہ شناختی کارڈز کا سنگین مسئلہ تین ماہ کے اندر حل کرے اور خیبر پی کے میں بلدیاتی الیکشن سے قبل تمام بلاک شدہ شناختی کارڈز کھولے جائیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو خطرہ ہوا تو ہر مسلمان اپنی جان کی بازی لگانے کیلئے تیار ہے۔ یمن کے مسئلے کے حل کیلئے حکومت کو اسلام آباد میں اسلامی کانفرنس کا سربراہی اجلاس بلانا چاہئے کیونکہ مسلمانوں کی باہمی لڑائیوں کا فائدہ ہمیشہ امریکہ اور اسرائیل نے اٹھایا ہے۔ جماعت اسلامی کی پریس ریلیز کے مطابق پشاور کے موضع واحد گڑھی چارسدہ روڈ پر منعقدہ ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا عوام ووٹ کی طاقت سے ظلم، جبر اور استحصالی نظام تبدیل کر دیں۔ جماعت اسلامی ہی حقیقی معنوں میں غریبوں اور مظلوں کی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا غریب لوگوں کیلئے دو وقت کی روٹی ملنا مشکل ہے۔ خوشحال پاکستان کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ قبل ازیں المرکز اسلامی میں مختلف سیاسی جماعتوں پر مشتمل کاشغر گوادر روٹ ایکشن کمیٹی کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا وفاقی حکومت فوری طور پر کاشغر گوادر روٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کرے اور ایسا کوئی فیصلہ نہ کرے جس کے نتیجے میں دفن شدہ نفرتیں دوبارہ اُبھر آئیں۔ انہوں نے کہا ماضی میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے غلط فیصلوں کی وجہ سے سانحہ مشرقی پاکستان پیش آیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں، سابق ناظمین، نائب ناظمین اور کونسلروں کے مختلف وفود نے جماعت اسلامی کا ساتھ دینے کا یقین دلایا جبکہ خان عبدالولی خان کے دست راست مہدی شاہ مرحوم کے بیٹوں اور اے این پی کے رہنما اختر علی سمیت مختلف پارٹیوں کے 100 سے زائد خاندانوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کر لی۔