بلدیاتی الیکشن: مقابلہ عام انتخابات میں پہلی 10 پوزیشنیں لینے والی جماعتوں میں ہی ہوگا

لاہور (فرخ سعید خواجہ) پاکستان کی سیاست کے 1988ء سے 2008ء کے بیس برس میں ملک میں دو جماعتی نظام سامنے آیا۔ ان تمام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پہلے دو نمبروں پر آتی رہیں۔ 1990ء میں طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک اور 1993ء میں قاضی حسین احمد کی پاکستان اسلامک فرنٹ نے ان دو میں سے کسی ایک جماعت کی جگہ لینے کی کوشش کی لیکن انکو کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ 2013ء کے الیکشن اس لحاظ سے منفرد تھے کہ اس میں الیکشن کمشن ماضی کی نسبت زیادہ بااختیار تھا۔ ان انتخابات میں الیکشن کمشن میں رجسٹرڈ 81 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ جن دس سیاسی جماعتوں نے قومی اسمبلی کیلئے سب سے زیادہ امیدوار میدان میں اتارے، ان میں مسلم لیگ (ن) 429 امیدواروں کے ساتھ پہلے نمبر پر اور تحریک انصاف 287 امیدواروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھی جبکہ پیپلز پارٹی اس مرحلے پر ہی تیسرے نمبر پر چلی گئی، انکے 250 امیدوار سامنے آئے۔ متحدہ 232 امیدواروں کے ساتھ چوتھے، جماعت اسلامی 169 کے ساتھ پانچویں، سابق صدر پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ 169 امیدواروں کے ساتھ چھٹے، عوامی نیشنل پارٹی 68 امیدواروں کے ساتھ ساتویں، سنی تحریک 46 امیدواروں کے ساتھ آٹھویں، محمود خان اچکزئی کی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی 43 امیدواروں کے ساتھ نویں اور ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کی تحریک تحفظ پاکستان 38 امیدواروں کے ساتھ دسویں نمبر پر رہی تاہم الیکشن کے نتائج سامنے آئے تو حسب سابق پہلے دو نمبروں پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ہی تھی البتہ ان دونوں کی نشستوں کی تعداد میں خاصا فرق تھا۔ تیسرے پر تحریک انصاف آ گئی جبکہ اس سے پہلے کے انتخابات میں یہ پوزیشن متحدہ کو حاصل ہوتی تھی۔ متحدہ قومی موومنٹ چوتھے نمبر پر چلی گئی۔ پانچویں پر جمعیت علماء اسلام (ف)، چھٹے نمبر پر مسلم لیگ فنکشنل، ساتویں پر پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، آٹھویں پر جماعت اسلامی، نویں پر عوامی نیشنل پارٹی اور دسویں پر (ق) لیگ آئی۔ اب ہم مئی میں خیبر پی کے اور ستمبر میں پنجاب اور سندھ کے ہونیوالے بلدیاتی انتخابات کی طرف آئیں تو کہا جاسکتا ہے کہ ان بلدیاتی انتخابات میں بھی ان دس سیاسی جماعتوں کے درمیان ہی زیادہ امیدوار میدان میں اتارنے کا مقابلہ ہو گا۔ بلدیاتی انتخابات میں مختلف صوبوں بلکہ شہروں اور قصبوں کی سطح پر مختلف مقامی اتحاد سامنے آئیں گے لیکن جہاں تک بلدیاتی امیدواروں کی کامیابی کا تعلق ہے پہلی 10 پوزیشنیں متذکرہ بالا جماعتوں ہی کو حاصل ہونگی۔