اولین مقصد انصاف کی فراہمی ہے‘ بدنیتی پر مبنی غلطی معاف نہیں کی جائیگی: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

لاہور (صباح نیوز) چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس منظور احمد ملک نے کہا ہے اللہ تعالیٰ نے جج صاحبان کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ آئین و قانون کے مطابق لوگوں کو انصاف فراہم کریںاور عدالت عالیہ کا سٹاف اس میں برابر کا شریک ہے۔ جج صاحبان کے ساتھ ساتھ نائب قاصد سے لیکر رجسٹرار تک ہم سب اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ وہ عدالت عالیہ میں افسروں و اہلکاروں سے خطاب کر رہے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت عالیہ کے تمام ملازمین انکے ساتھی ہیں اور کوئی بھی کسی اعتبار سے کم نہیں ہے۔ ہم صوبے کی سب سے بڑی عدالت کے ذمہ دار ہیںاور ہمارا اوّلین مقصد سائلین کو بروقت اور قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی ہے۔ ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک جہاز اڑانے کیلئے پائلٹ کی ضرورت ہوتی لیکن بہت سے ڈیپارٹمنٹ اسکی معاونت کرتے ہیں، اگر کوئی ایک شعبہ بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر رہے گا تو پرواز تاخیر کا شکار ہوگی اور مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑیگا۔ نائب قاصد، دفتریوںاور ڈرائیورز وغیرہ جیسے ملازمین کیلئے درجہ چہارم جیسے لفظ کا استعمال بالکل اچھا ہے، یہ ہمارے ادارے کا اہم حصہ ہیں جن کے بغیر عدالتیں اپنا کام پورا نہیں کر سکتیں۔ ہمیں یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ یہ ہمارا ہائیکورٹ ہے، ہمارا گھر ہے اور یہ محض جج صاحبان سے نہیں چلتا، ہم سب نے اسکی شان کو برقرار رکھنا ہے اور عدالت عالیہ کے ملازمین ہماری ٹیم کا وہ حصہ ہیں جن کے بغیر لوگوں کو انصاف کی فراہمی ممکن نہیں۔ہم نے تمام زیرالتوا مقدمات کو چھٹیوں سے پہلے نمٹانے کا عزم کیا ہے اوریہ ہم سب کا پہلا امتحان ہیں۔ آج ان پر اس ادارے کے سربراہ ہونے کی ذمہ داری ہے اور تمام ملازمین انکے بچوں کی مانند ہیں لیکن وہ ایک غافل باپ کی طرح نہیں ہیں بلکہ وہ ہر اہلکار کے عمل پر نظر رکھیں گے اور بد نیتی پر مبنی غلطی کبھی معاف نہیں کی جائیگی۔