’’ملک میں آج بھی خواتین فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں‘‘

’’ملک میں آج بھی خواتین فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں‘‘

لاہور (لیڈی رپورٹر) اسلام نے عورت کو بحیثیت ماں،بیوی،بیٹی اور بہن کے بہت بلند مقام دیا ہے۔عورت کو کبھی بھی مرد بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے کیونکہ عورت کا عورت رہنا ہی اس کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔ آج بعض عناصر خواتین کو چار دیواری تک محدود کرنا چاہتے ہیں۔ آج ہمیں ایسی اعلیٰ مائوں کی ضرورت ہے جو قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ جیسے بچوں کو جنم دیں۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں آج بھی خواتین فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان، شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں ’’عالمی یوم خواتین‘‘ کے موقع پر منعقدہ خصوصی نشست کے دوران کیا جس کی صدارت جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے کی۔ اس موقع پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد،بیگم بشریٰ رحمن، پروفیسر حلیمہ سعدیہ،عارفہ صبح خان، سلمان عابد، ڈاکٹر ثمر فاطمہ، یاسمین ظفر،صائمہ میر،فوزیہ نصیر،طاہرہ انجم،زرقا جاوید،یاسمین خان،ناصرہ انور رضوی،نائلہ فاروقی،اسماء اقبال،سجل زہرہ،مدیحہ ارشد،سیمل شہزاد سمیت دیگر خواتین بڑی تعدادمیں موجود تھیں۔ جسٹس(ر)ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ خواتین نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا۔قائداعظمؒ نے بھی اپنی بہن مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھا۔صوبہ خیبر پی کے (سرحد)میں پاکستان میں شمولیت کے حوالے سے ہونیوالے ریفرنڈم کی کامیابی میں خواتین نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین پاکستان کی زینت ہیںجبکہ قبائلی علاقوں کی خواتین بھی ہمارے تعاون کی مستحق ہیں اور ہمیں ان کی مدد کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں عورتوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں صحیح معنوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ جب خواتین نے تحریک پاکستان میں شمولیت اختیار کی تو یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور ہمیں پاکستان حاصل ہوا۔نظریۂ پاکستان ٹرسٹ تمام طبقوں کی سر بلندی کیلئے کام کررہا ہے اورہم اپنی سرگرمیوں میں خواتین کو ضرور شامل کرتے ہیں۔ بیگم بشریٰ رحمن نے کہا کہ اسلام نے عورت کو بحیثیت ماں،بیوی،بیٹی اور بہن کے بہت بلند مقام دیا ہے۔52فیصد عورتوں کے ووٹ لے کر ایوانوں میں جانیوالے سیاستدان بھی ان کو حقوق دینے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ عورت کو کبھی بھی مرد بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے کیونکہ عورت کا عورت رہنا ہی اس کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر پروین خان نے کہا کہ8 مارچ1908ء کو نیو یارک میں ایک گارمنٹس فیکٹری کی خواتین نے اپنی تنخواہوں میں اضافے اور کام کے اوقات میں کمی سمیت اپنے دیگر حقوق کا مطالبہ کیا تو انہیں اس مطالبے کی پاداش میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا اسلام نے عورت کو بہت بلند مقام دیا اور آپﷺ محسن نسواں ہیں۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں آج بھی خواتین فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔ سلمان عابد نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے مطابق تعلیم کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔آج ہمارے ہاں 53فیصد خواتین نا خواندہ ہیں۔عارفہ صبح خان نے کہاکہ اگرچہ آج بھی ہمارے معاشرے میں خواتین پر تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں لیکن پاکستان کی عورت آج پہلے سے بہت مضبوط ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا بعض حلقے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ خواتین کا عالمی دن نہیں منانا چاہئے لیکن میرے خیال میں اس دن کو منانے سے خواتین کو درپیش بہت سے مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ثمر فاطمہ نے کہا کہ پہلی وحی پر ایمان لانے والی حضرت خدیجہؓ بھی ایک عورت ہی تھیں۔ پاکستانی خواتین اگر خود کو بااختیار بنانا چاہتی ہیں تو انہیں پہلے اپنے آپ کو پہچاننا چاہیے اور اپنے اردگرد کے ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو منظم کرنا چاہیے۔ پروفیسر حلیمہ سعدیہ نے کہا کہ عورت ہمت اور حوصلے کانام ہے۔ایک عورت ہی اپنے بچوں کو مایوسی سے نکال کر جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ان کی خداداد صلاحیتوں اور قابلیتوں پر اعتماد کیا جائے۔