وزیراعظم مذاکرات کی کامیابی کیلئے وزیروں مشیروں کی بیان بازی پر پابندی لگائیں: منور حسن

وزیراعظم مذاکرات کی کامیابی کیلئے وزیروں مشیروں کی بیان بازی پر پابندی لگائیں: منور حسن

لاہور (سپیشل رپورٹر)  امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے وزیر دفاع کی طرف سے دیئے گئے بیان ’’طالبان سے مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کیلئے وزیروں مشیروں کی بیان بازی پر پابندی لگائیں، جب وزیر داخلہ فوکل پرسن ہیں تو پھر بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں کو کیوں نہیں روکا جا رہا۔ خواجہ آصف کا برطانوی نشریاتی ادارے کو دیا گیا انٹرویو قومی پالیسی سے متصادم ہے۔ منور حسن نے کہا کہ فوج کی طرف سے مذاکراتی عمل کا حصہ نہ بننے اور حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کا بیان خوش آئند ہے، سکیورٹی اداروں کو طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے موجود بیرونی ہاتھ کا کھوج لگا نا چاہئے اور مذاکرات کی کامیابی کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہئے۔  طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے بعد ہونے والے واقعات کو طالبان سے منسوب کرنا افسوسناک ہے جبکہ وہ ان واقعات سے لا تعلقی کا اظہار کر رہے ہیں۔ منورحسن نے کہا کہ حکومتی اہلکار وں خاص طور پر وزراء کے ملکی و غیر ملکی میڈیا پر اپنی خواہشات کے اظہار سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ منور حسن نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کی لاپرواہی سے تھر میں سینکڑوں بچوں کی ہلاکتوں اور عوام کو پانی اور خوراک جیسی بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کے قتل کا مقدمہ ان حکمرانوں کے خلاف درج ہونا چاہئے جو سندھ فیسٹیول کے نام سے 15 دن تک ناچ گانوں میں مگن رہے۔