مسلم لیگ (ن) نے خواتین سے ہمارے دور کی سہولتیں چھین لیں: پرویز الٰہی

مسلم لیگ (ن) نے خواتین سے ہمارے دور کی سہولتیں چھین لیں: پرویز الٰہی

لاہور (خصوصی رپورٹر) (ق) لیگ کے سینئر مرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے خواتین سے ہماری دی گئی سہولتیں اور بلدیاتی اداروں میں نمائندگی بھی چھین لی ہے، دن بدن بڑھتی مہنگائی، لاقانونیت وغیرہ سے آج گھریلو خاتون سب سے زیادہ متاثر ہے، ہم نے خواتین کی یونیورسٹیاں، تربیتی مراکز اور فلاحی ادارے بنائے، تعلیم دشمنوں نے ہمارے منصوبے روکدئیے، ہم نے ہر شعبہ میں جو کہا کر دکھایا، عالمی اداروں نے بھی خواتین کیلئے ہمارے شاندار اور کامیاب منصوبوں کی تعریف کی۔ وہ گذشتہ روز یہاں مسلم لیگ ہائوس میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر (ق) لیگ شعبہ خواتین پنجاب کے زیراہتمام خواتین کنونشن سے خطاب کر رہے تھے جس میں چودھری ظہیرالدین، محمد بشارت راجہ، باسمہ ریاض، بشریٰ رحمن، مسز فرخ خان، خدیجہ فاروقی، رضیہ انجم، ماجدہ زیدی، کنول نسیم، سیمل کامران، زبیدہ احسان، عابدہ رانا، رضیہ سلطانہ، تبسم ناز، تبسم زیدی، رخسانہ بیگم، نگہت رانا، روبینہ ناز، فہمیدہ یعقوب، ثوبیہ فضیلت، شکیلہ حیدری، صفیہ بیگم، سکینہ بشیر سمیت مختلف مسلم لیگی عہدیداروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر خواتین وقتاً فوقتاً شجاعت حسین، پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کے حق میں زبردست نعرہ بازی کرتی رہیں۔ کنونشن میں متفقہ قراردادوں کے ذریعہ مطالبہ کیا گیا کہ مہنگائی کے باعث مائیں خود اپنے جگر گوشے قتل کر رہی ہیں، چودھری پرویزالٰہی دور کی قیمتیں اور سہولتیں واپس دی جائیں۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ ملکی ترقی خواتین کی شرکت کے بغیر ممکن نہیں۔ ہم نے ہر شعبہ میں ان کی نمائندگی اور زیادہ سے زیادہ سہولتیں و مراعات دینے کیلئے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کئے، اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں میں خواتین کو 33 فیصد نمائندگی دی، ویمن ڈویلپمنٹ منسٹری قائم کی، میری کابینہ میں 5 خواتین وزراء تھیں آج پنجاب میں ایک بھی خاتون وزیر نہیں جبکہ بڑے بڑے دعوے کرنے والی مسلم لیگ (ن) نے بلدیاتی اداروں میں خواتین کی نشستیں بھی 33 سے 22 فیصد کر دیں۔ موجودہ حکمرانوں کو اپنے وعدوں کا بھی کوئی پاس نہیں، ہم نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بھرتی کیا اور ان کے حقوق بھی دئیے، ان کے دھرنے پر موجودہ حکومت نے ان کے مطالبات مان لئے لیکن اسمبلی میں پیش کردہ بل میں ان کا کوئی ذکر نہیں، آئندہ ان کے دھرنے میں مسلم لیگی خواتین بھی شریک ہوں گی۔ چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ ہم نے خواتین کے تحفظ اور تربیت کیلئے 608 ملین روپے کی لاگت سے پروگرام شروع کیا، 26 شیلٹر ہومز، غیررسمی تعلیم کے ایک ہزار ادارے، کرائسس سنٹر بنائے، بلاسود قرضے دئیے، جنوبی پنجاب کی ساڑھے گیارہ لاکھ بچیوں کو 200 روپے ماہانہ وظیفہ دیا، جیل ریفارمز پروگرام شروع کیا۔ راولپنڈی میں خواتین یونیورسٹی بنائی، لاہور کے دو کالجوں کو یونیورسٹی کا درجہ دیا، ملتان میں یونیورسٹی کا منصوبہ ن لیگ کی حکومت نے بند کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے پہلی بار دگنی تنخواہ پر 35 ہزار خواتین ٹیچرز بھرتی کیں، نرسوں کو گریڈ 17 میں بھرتی کیا، آج لیڈی ہیلتھ ورکرز، نرسیں، ٹیچرز، لیڈی ڈاکٹر، سڑکوں پر رل رہی ہیں، قوم کی مائیں، بیٹیاں سراپا احتجاج ہیں مگر ن لیگ کی حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ کنونشن سے مختلف خواتین رہنمائوں نے خطاب کیا اور متفقہ قراردادوں کے ذریعہ مطالبہ کیا گیا کہ ہمارے دور کی دیگر سہولتوں کے علاوہ مفت تعلیم، بلاسود قرضوں کی فراہمی، چائلڈ پروٹیکشن کے ادارے، بلدیاتی اداروں میں خواتین کی 33 فیصد نشستیں بحال کی جائیں۔