سانحہ اسلام آباد کچہری میں غفلت برتی گئی، وزیر داخلہ استعفیٰ دیں: پاکستان بار کونسل

لاہور (وقائع نگار خصوصی) پاکستان بار کونسل کے نومنتخب وائس چیئرمین رمضان چودھری نے حکومت پاکستان سے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد کی کچہری میں ہونے والی دہشت گردی پر غفلت برتی گئی اسلئے فوری طور پر آئی جی، کمشنر سمیت دیگر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ورنہ وکلا ایک بار پھر اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر ہوں گے اور تحریک چلا ئیں گے۔ انہوں نے اپنے مطالبہ میں حکومت وقت سے کہا ہے کہ فوری طور پر ملک بھر کی تمام تر عدالتوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھائی جائے ۔ وہ گذشتہ روز سپریم کورٹ بار لاہور رجسٹری میں ہنگامی پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ اس موقع پر پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے نومنتخب چیئرمین ابرار حسن، لاء ریفارمز کمیٹی کے چیئرمین اختر حسین، پاکستان بار کونسل کے ارکان، اعظم نذیر تارڑ، احسن بھون، سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری آصف محمود چیمہ سمیت دیگر نے شرکت کی۔ رمضان چودھری نے کہاکہ یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ اسلام آباد جیسے محفوظ مقام پر کچہری میں دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوجائے اور اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ حکمرانوں کی جانب سے اس واقعہ کا کوئی فوری ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ انہوں نے کہا حکمرانوں کی نااہلی اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ واقعہ کے عینی شاہدین نے حملہ آوروں کی تعداد پانچ بتائی تھی لیکن حکمرانوں نے دو کی رٹ لگائے رکھی، یہ سب وزیر داخلہ کی دانستہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ اس واقعہ میں پولیس کی جانب سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی، سب اپنی اپنی جانیں بچانے میں لگے رہے۔ ادھر واقعہ میں ہمارے سینئر وکلاء اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایک ہفتہ کے اندر پاکستان کی عدالتوں کی سکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے وگرنہ وکلاء راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد کی کچہری میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ میں شہید ہونے والے وکلاء کی ایک کروڑ روپے سے امداد کی جائے جبکہ اس واقعہ میں زخمی ہونیوالوں کو 10 لاکھ روپے دئیے جائیں۔ پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین ابرار حسن نے کہا کہ تاریک قوتیں ہمارے اداروں کو تباہ کرنا چاہتی ہیں۔ اس حوالے سے کچھ قوتیں اسلام آباد کے واقعہ کے حملہ آوروں کی حمایت کر رہی ہیں جس میں وزیر داخلہ بھی شامل ہیں۔ یہ ایسا واقعہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی آڑ میں دہشت گردی کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔