عمران کی آرٹیکل 62، 63 کے حوالے سے ممکنہ نااہلی، وکلاء کا ملا جلا ردعمل

لاہور (وقائع نگار خصوصی) آئینی ماہرین نے ارسلان افتخار کی طرف سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو آرٹیکل 62 اور 63 کے حوالے سے نااہل قرار دلوانے کے اعلان پر مختلف آرا کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ڈاکٹر عبدالباسط نے کہا آئینی طور پر کوئی بھی شہری رکن پارلیمنٹ کو نااہل قرار دلوانے کیلئے قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق رکھتا ہے لیکن رکن پارلیمنٹ کے خلاف براہ راست ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکتا۔ سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینٹ کو درخواست دینا ہو گی۔ آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہلی کیلئے آرٹیکل 199 کے تحت کووارنٹو کی درخواست کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اے کے ڈوگر نے کہا پارلیمنٹ بنیادی طور پر عوام کی نمائندگی کرتی ہے اس لئے کوئی بھی شخص رکن پارلیمنٹ کی نااہلی کیلئے رجوع کر سکتا ہے جبکہ آرٹیکل 199 کے تحت کووارنٹو کی درخواست بھی دائر ہو سکتی ہے۔  عدالت کسی کو نااہل قرار دے تو الیکشن کمشن کو ریفرنس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کیس میں اس اصول کو طے کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل محمد اظہر صدیق نے کہا آرٹیکل 62 اور 63 الیکشن سے پہلے کی نااہلیت سے متعلق ہے۔ عمران خان اب رکن اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں اس لئے قانونی طور پر ارسلان افتخار کی الیکشن کمشن سے رجوع کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں البتہ وہ آرٹیکل 199 کے تحت کووارنٹو کی رٹ درخواست دائر کر سکتے ہیں۔