شہریوں نے پائی پائی جمع کی، حکومت اور بنکوں نے انہیں حج کی سعادت سے محروم کر دیا: ہائیکورٹ

لاہور(وقائع نگار خصوصی) ہائیکورٹ نے سرکاری حج کوٹہ کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف دائر درخواستوں پر بھی فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت نے کہا کہ شہریوں نے پائی پائی جمع کر کے حج کے لئے رقم جوڑی۔ مگر حکومت اور بینکوں کی ملی بھگت نے انہیں حج کی سعادت سے محروم کر دیا۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے سرکاری حج سکیم کے تحت ایک ہی دن میں آن لائن درخواستیں موصول کیں اور اسی دن انکا فیصلہ سنا دیا۔ بینکوں کے عملے کی ملی بھگت سے کئی شہری سرکاری سکیم کے تحت حج کرنے سے رہ گئے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سرکاری سکیم کے تحت معیار پر پورا اترنے والی درخواستیں منظور کی گئیں۔ شہریوں کوشکایات ایسے بینکوں سے ہوئیں جنکا عملہ غیر تربیت یافتہ تھا۔ وفاقی وزارت مذہبی امور کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ سرکاری سکیم کے تحت حج درخواستیں پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر موصول کی گئیں اگر قرعہ اندازی کرتے تو اس پر بھی اعتراضات آتے۔ جسٹس خالد محمود نے کہا کہ حج درخواستوں کی وصولی کے طریقہ کار سے آگاہی کے لئے اشتہار دئیے گئے نہ ہی مناسب وقت فراہم کیا گیا ایسے میں شفافیت کیسے برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ آن لائن سسٹم کا نام لے کر شہریوں کو حج کی سعادت سے محروم کر دیا گیا۔ اٹھارہ کروڑ عوام کا حق ہے کہ وہ حج کی سعادت حاصل کریں اس حوالے سے عدالت عالیہ میں آنے والی درخواستوں کوغیر موثر قرار نہیں دیا جا سکتا۔