تشدد سے متاثرہ خواتین کیلئے مضبوط سماجی و ریاستی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے

لاہور (لیڈی رپورٹر) صوبائی سطح پر گھریلو تشدد کے خاتمہ کے بل پر قانون سازی کی جائے، خواتین سے متعلقہ قوانین اور دیگر انسانی حقوق پر عملدآمد کی صورتحال کو بہتر اور یقینی بنایا جائے۔ تشدد سے متاثرہ خواتین کے لئے مضبوط سماجی و ریاستی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے اور ضلعی و صوبائی سطح پر محتسب کا قیام عمل میں لایا جائے۔ مقررین نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز ادارہ استحکام شرکتی ترقی کے زیر اہتمام منعقدہ خواتین پر تشدد کے خاتمہ کے حوالے سے سولہ روزہ آگاہی مہم کے اختتامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین میںتحریک انصاف کی رہنما مہناز رفیع، ایکشن ایڈلاہور کے مینجر داو¿د ثقلین، پاکستان لاءکالج کے پرنسپل ہمایوں احسان، ڈاکٹر ثمن یزدانی ڈائریکٹر سینٹر برائے صحت و آبادی لاہور، سلمان عابد ریجنل ہیڈ ایس پی او لاہور ودیگر شامل تھے۔ مہناز رفیع نے کہاکہ سال 2013الیکشن کا سال ہے لہذاخواتین کی سیاسی عمل میں شمولیت کو یقینی بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور میںخواتین کو خاص فوقیت دینا ہوگی۔ داو¿د ثقلین نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے سماجی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پراداروں میں کام کرنے والی خواتین اور گھریلو و مقامی سطح پر کاروباری خواتین کوتحفظ فراہم کرنے کے لئے ایک مضبوط لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ استحصالی طبقہ سے ان خواتین کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ پروفیسرہمایوں احسان نے کہا کہ خواتین بچوں اور عورتو ں کو تعلیم کا بنیادی حق فراہم کر کے انہیں سماجی و ریاستی تشدد سے بچایا جا سکتا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ دیہی خواتین کو باالخصوص ایسے موقعے فراہم کئے جائیں جن سے وہ اپنی تعلیم کا سفر جاری رکھ سکیں اور تعلیم کی آگاہی کو آگے پھیلانے میں مددگار ثابت ہو سکیں۔ ڈاکٹرثمن یزدانی نے کہا کہ خواتین پر تشدد کے خاتمہ کے حوالے سے ہمیں اپنی سوچ اور پالیسیوں میں منظم ہونا ہوگا۔ سلمان عابدنے کہا کہ ایک ذمہ دار میڈیا ہی خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔