’’را‘‘ کے دہشت گرد لاہور سمیت دوسرے اہم شہروں میں پوری طرح سرگرم

لاہور (احسان شوکت سے) بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘کے دہشت گرد اور اس کے ایجنٹ نہ صرف دیگر صوبوں بلکہ پنجاب میں لاہور سمیت اہم شہروں میں مذموم  سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لاہور، قصور، اوکاڑہ، شکر گڑھ، نارووال ، نارنگ منڈی گجرات ، کھاریاں، سیالکوٹ میں بھی ان کے ٹھکانوں کے انکشافات ہوئے ہیں۔ بلوچستان کی ایک علیحدگی پسند تنظیم کے ساتھ مل کر’’ را‘‘کے انارکلی میں دو دھماکوں سمیت دہشت گردی کی متعدد وارداتوں،  جماعۃ الدعوۃ کے ناظم تعلقات عامہ پنجاب خالد بشیرکے اغواء  پھر بیہمانہ تشدد سے قتل  کے واقعہ میں بھی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے تھے۔ ملک  میں دہشت گردی، بم دھماکوں ، سمگلنگ ، غیرقانونی طور پر بارڈر کرکے آنے والے 42 بھارتی ایجنٹ  اور دہشت گرد جرم ثابت ہونے پر عدالتوں سے  سزائیںپانے پر پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں۔ ان بھارتی دہشت گردوں اور  ایجنٹوں کو  حساس اداروں نے لاہور، قصور، اوکاڑہ ، شکر گڑھ، نارووال، نارنگ منڈی گجرات ، کھاریاں، سیالکوٹ سے گرفتار کیا ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں قید بعض بھارتی ایجنٹوں اور دہشت گردوں کے ابھی تک جعلی نام  ہمارے ریکارڈ میں درج ہیں۔گرفتارکلد یپ سنگھ جاسوس ہے، اسے26 سال قید کی سز اہوئی ہے۔ کلد یپ کمار بھی بھارتی جاسوس  ہے  اسے بھی 26 سال قید کی سزا ہوئی ہے۔ غلام فرید میرکوٹ کا تعلق بھارتی پنجاب سے ہے، اسے 13سال کی سزا ہوئی ہے۔ مہندر سنگھ کا  تعلق گورداس پور سے ہے  وہ جاسوس ہے  اسے10سال کی سزا ہوئی ہے۔ کلیر سنگھ کا نام فتح محمد تھا، وہ دہشت گردی میںملوث ہے۔ یوگیشن کمارجاسوسی اور سمگلنگ کے الزام میں نارووال سے پکڑا گیا تھا۔ بھارتی شہری محمد قاسم نارنگ منڈی سے پکڑا گیا ہے۔ جالندھر کے رہائشی سیروف سلیم کو پکڑا گیا۔ جموں کے رہائشی محمد اقبال عرف رانا سیکرٹ ایکٹ کے تحت گجرات سے پکڑا گیا۔ مبارک شاہ کھاریاں کینٹ سے سیکرٹ ایکٹ میں پکڑا گیا۔  جاوید چھانی کا اصل نام پنج کمار اور تعلق گورداسپورسے تھا ، اسپال رام اوکاڑہ سے، تعلوق  سنگھ، محمد وقار، دلباغ سنگھ کو اسلام آباد جبکہ رام تلک سیکرٹ ایکٹ کے تحت لاہور سے پکڑا گیا ہے۔ ’را‘‘اپنے دہشت گردوں، ایجنٹوں اور سہولت کاروں کو افغانستان ، دبئی اور دیگر ممالک سے بھی مالی، افرادی اور  دیگرمدد فراہم کرتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پکڑے گئے بھارتی ایجنٹ  اور  دہشت گردوں میں سے بیشتر نے اسلامی نام رکھے ہوئے تھے۔ کچھ عرصہ بعد بھارت کے خفیہ ادارے اپنے طریقہ کار میں تبدیلی کرلیتے ہیں۔  اس وقت’’ را‘‘ کا افغانستان کی سرحد پر کریمنل اور سمگلروں سے رابطہ ہے جو ان کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔  لاہور سے جماعت الدعوۃ کے خالد بشیر کو اغوا کے بعد قتل کرنے کے واقعہ کی تحقیقات پر بھی ہوشربا انکشافات سامنے آئے تھے کہ ملزموں کو اس سلسلے میں رقم اور ہدایات دبئی سے موصول ہورہی تھیں  دبئی سے اس معاملے کو ’را‘ کے ایجنٹ ہینڈل کررہے تھے۔ پرانی انارکلی ٹورسٹ سٹریٹ میں مختلف اوقات میں دودھماکوں میں بھارتی فنڈز سے چلنے والی بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیم کے ملوث ہونے کے علاوہ صوبے میں دہشت گردی کی متعدد وارداتوں کی تانے بانے ’’ را‘‘سے ملتے ہیں۔
را / دہشت گرد