پنجاب: انفارمیشن کمشنر عوام کو معلومات مہیا کرنے میں ناکام

لاہور (معین اظہر سے) پنجاب میں اطلاعات تک عوام کی رسائی کے لئے بنائے گئے انفارمیشن کمشنر  عوام کو معلومات دینے میں ناکام ہوگئے ہیں۔  انفارمیشن کمشن نے گزشتہ تین ماہ میں تیسرا لیٹر جاری کر دیا ہے کہ ہمارے احکامات پر عمل درآمد کیا جائے اس  میں تمام محکموں کے سربراہوں کو ایک بار  پھر کہا گیا ہے کہ انفارمیشن کمشنر سے مانگی گئی اطلاعات انہیں کو فراہم کی جائیں۔  اعلی افسروں کی منظوری کے بغیر انہیں کو اطلاعات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ محکموں میں بنائے گئے انفارمیشن افسر اعلی افسروں سے منظوری لے کر اطلاعات دیتے ہیں جو غیر قانونی عمل ہے۔ اس وقت پنجاب میں 300 سے زیادہ عوام کی مانگی گئی اطلاعات محکموں میں زیر التوا  ہیں۔  حکومت پنجاب نے ایک سال قبل پنجاب میں تین انفارمیشن کمشنروں کا تقرر کیا تھا انفارمیشن کمشنر بیورو کریسی سے معلومات لینے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ انفارمیشن کمشن کی جانب سے تمام محکموں کے سربراہوں کو  جو خط  جاری کیا گیا ہے کہ عوام کی طرف سے ان شکایات میں تیزی سے اضافہ ہو تا جارہا ہے کہ پنجاب ٹرانسپرنسی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت ان کو مانگی گئی سرکاری معلومات فراہم نہیں کی جارہیں۔  یہ شکایات بھی ملی ہیں کہ سرکاری ادارے اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بعض معلومات دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ کمشن نے ابھی تک رعائت کرتے ہوئے کسی کو جرمانہ نہیں کیا اب اگر ان ہدایات پر عمل درآمد نہ کیا گیا اور عوام کو مقررہ مدت میں معلومات فراہم نہ کی گئیں تو کمشن جرمانے شروع کر دے گا۔ خط  میں کہا گیا ہے کہ ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے محکموں، اداروں میں لگائے گئے انفارمیشن افسران محکموں کے سربراہوں سے پوچھنے میں لگ جاتے ہیںکہ یہ اطلاعات فراہم کی جائیںیا  نہیں۔یہ کہا گیا انفارمیشن  افسر کا نام محکمے کے باہر نوٹس بورڈ پر آویزاں کیا جائے تاہم صرف پانچ محکموں میں انفارمیشن افسروں کے نام نوٹس بورڈ پر لگے ہیں  باقی کسی محکمے میں ایسا نہیں ہے۔