پرویز رشید نے مدارس کو جہالت کی یونیورسٹیاں قرار دیکر بڑے جاہل ہونے کا ثبوت دیا: ساجد میر

پرویز رشید نے مدارس کو جہالت کی یونیورسٹیاں قرار دیکر بڑے جاہل ہونے کا ثبوت دیا: ساجد میر

لاہور (خصوصی نامہ نگار) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کی طرف سے کراچی میں ادبی کانفرنس کے دوران دینی مدارس کے خلاف کی گئی گفتگو کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز رشید نے دینی مدارس کو جہالت کی یونیورسٹیاں قرار دے کر خود سب سے بڑے جاہل ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ پرویز رشید سے ایسی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی توقع نہیں تھی۔ اپنے مذمتی بیان میں پروفیسر ساجد میر نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر ادارے میں اصلاحات کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ اداروں میں ہر طرح کے خیالات اور نظریات کے لوگ ہوتے ہیں۔ کسی ایک فرد کی غیر ذمہ دارانہ حرکت کی بنیاد پر تمام مدراس کو جاہل قرار دینا سراسر ناانصافی ہے۔ پرویز رشید کو چاہیے کہ وہ دینی مدارس کے خلاف اغیار کی طرف سے کیے جانے والے بے بنیاد پراپیگنڈہ مہم کا حصہ نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ پرویز رشید دینی مدارس کے خلاف منفی گفتگو کر کے مسلم لیگ ن اور حکومت کے لیے مشکلات پیدا نہ کریں۔ دینی طبقے میں پہلے ہی مدارس، مساجد کے بارے میں حکومتی پالیسیوں پر شدید تحفظات ہیں۔ ملک میں ایسی قوتیں متحرک ہیں کہ جو مسلم لیگ ن کے مذہبی ووٹ بنک کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ پرویز رشید نے بالواسطہ ان قوتوں کا ایجنڈا آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ صولت مرزا کس دارالعلوم سے فارغ ہے اور گلو بٹ یا فیصل موٹا کس دینی مدرسے کا سند یافتہ ہے؟ کیا ملک میں پکڑے جانے والے مختلف دہشت گردوں کا تعلق بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے نہیں۔ کیا اس بنیاد پر ہم انہیں بھی جاہل قرار دے دیں۔ پرویز رشید کی گفتگو عقلی، منطقی لحاظ کے علاوہ حقائق کے بھی بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پرویز رشید کی اس گفتگو کے متعلق وزیراعظم نوازشریف سے بات کریں گے۔ اسلام کی روشنی پھیلانے والے ان مدارس نے دین کے علم کو بلند رکھنے کیلئے لازوال قربانیاں دے کر ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔ مدارس پر دہشت گردی کے الزامات لگانے والے اسلام دشمنی کا ثبوت دے رہے ہیں۔