لاہور: چند ماہ کے دوران غیرت کے نام پر درجنوں خواتین قتل، متعدد پر تیزاب پھینک دیا

لاہور (میاں علی افضل سے) صوبائی دارالحکومت میں چند ماہ کے دوران  درجنوں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل  جبکہ متعدد خواتین پر تیزاب پھینک دیا گیا۔ محکمہ  پولیس نے تیزاب  پھینکنے پر مقدمہ میں لگنے والی دہشت گردی کی دفعات بھی ختم کر دیں۔ خواتین خوف  سے گھروں تک محدود ہونے پر مجبور ہو گئیں۔ متعدد خواتین پر بازاروں میںخریداری کے دوران سرعام تیزاب پھینکا گیا۔ پولیس کی جانب سے مقدمات کے اندراج کے بعد کیسز کی تفتیش جاری ہے،  ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا جن خواتین پر تیزاب پھینکا گیا ان میں باغبانپورہ کی رہائشی کوثر ناہید، ہربنس پورہ  کی رہائشی ناہید اختر، تھانہ مصری شاہ کے علاقہ کی رہائشی محمد نسیم، تھانہ ستوکتلہ کے علاقہ میں یو ایم ٹی کی لیکچرار ہما، راوی روڈ کے علاقہ میں رشیداں بی بی، شوکت علی،  ہنجروال کے علاقہ میں مہوش، شاہدرہ کے علاقہ میں کینر فاطمہ، تھانہ باغبانپورہ کے علاقہ میں ارم صادق، نورایاں شیرا کوٹ کے علاقہ میں نورین پر  تیزاب پھینک دیا گیا جبکہ تھانہ داتادربار کے علاقہ میں غیرت کے نام پر سحرش یونس، شفیق آباد  میں نسرین بی بی، تھانہ چوہنگ میں صغراں بی بی ،تھانہ کاہنہ میں صوبیہ بی بی، ستوکتلہ میں صغراں بی بی، تھانہ اسلام پورہ میں حمیرا بی بی ،تھانہ کاہنہ میں نسیم بی بی، تھانہ قائداعظم انڈسٹریل ایریا میں اقبال بی بی، تھانہ بادامی باغ  میں سلمیٰ بی بی، تھانہ مزنگ میں فرزانی بی بی، تھانہ جنوبی چھاونی میں عظمیٰ بی بی ،تھانہ باغبانپورہ میں شبانہ، تھانہ شیرا کوٹ میں انعم بی بی، تھانہ غازی آباد میں مہوش بی بی، تھانہ ساندہ میں شہناز بی بی اور تھانہ سمن آباد میں سحر شہزاد کو قتل کر دیا گیا۔