علامہ اقبال ائرپورٹ کے حفاظتی انتظامات انتہائی سخت

لاہور (سید شعیب الدین سے) ملک کے چار بڑے ائرپورٹس پر دہشت گردوں کی طرف سے خوفناک کارروائیوں کے بعد سکیورٹی ادارے فول پروف سکیورٹی نظام نافذ کرنے کی پلاننگ کر رہے تھے تاکہ تمام ائرپورٹوں اور وہاں موجود قیمتی اثاثوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ لاہور، پشاور، کراچی ائرپورٹ، کامرہ، مہران اور کوئٹہ ائربیس دہشت گردوں کا نشانہ بن چکے ہیں جہاں انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ پاکستان کے حساس دفاعی اثاثوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا تھا جس کے بعد سکیورٹی اداروں کی طرف سے علامہ اقبال ائرپورٹ کو دہشت گردوں کیلئے سب سے آسان ہدف قرار دیتے ہوئے اس کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دینے اور مطلوبہ وسائل مہیا کرنے پر زور دیا تھا۔ چنانچہ حکومت نے جہاں سریع الحرکت دستے ٹرینڈ کئے گئے ہیں وہاں ائرپورٹ کے اطراف دفاعی حصار سخت کر دیا گیا ہے جس میں جدید ترین حساس جاسوسی آلات استعمال کرکے انہیں کمپیوٹر نیٹ ورک سے جوڑ دیا گیا ہے جس کی وجہ  24 گھنٹے کنٹرول روم میں مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ سکیورٹی ادارے اس حوالے سے کسی بھی قسم کی تفصیلات مہیا کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں تاہم اس بات پر متفق ہیں کہ علامہ اقبال ائرپورٹ کی سکیورٹی کو فول پروف بنا دیا گیا ہے۔ ائرپورٹ کے چاروں طرف نصب جالی کی دیوار کو مزید 4 فٹ بلند کرکے اس کے اوپر خاردار تار لگا دئیے گئے ہیں۔ ہر سو فٹ کے فاصلے پر رات کے وقت تیز روشنی کا بندوست کر دیا گیا ہے۔ ائرپورٹ کے اطراف نصب ’’جالی کی دیوار‘‘ کے اندر خاردار تار کی دوسری دیوار بنا دی گئی ہے جس میں کرنٹ موجود ہے پھر مناسب فاصلے پر نائٹ ویژن کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ خاردار تار کے نئی باڑ کے ساتھ ایسے حساس حالات نصب ہیں جو معمولی سے معمولی جانور کی آمدورفت بھی ریکارڈ کرتے ہیں۔ ائرپورٹ کے اندر داخلے پر سخت چیکنگ پہلے سے ہی شروع کر دی گئی تھی۔ ائرپورٹ کا ’’کارگو ایریا‘‘ میں سے دن رات داخلہ مشکل نہیں تھا۔ کارگو ٹرکوں کی آمدورفت 24 گھنٹے جاری رہتی تھی۔ اس کے باوجود یہاں چیکنگ کا سرے سے وجود نہیں تھا۔ نوائے وقت میں اس کی نشاندہی کے بعد اب وہاں ڈبل گیٹ نصب کر دئیے گئے ہیں۔ گاڑیوں کے اندر داخلے میں رکاوٹ زمیں پر ’’آہنی دیوار‘‘ نصب کرکے کھڑی کی گئی ہے جو گاڑی کی مکمل چیکنگ کے بعد نیچے کی جاتی ہے۔ ائرپورٹ پر تعینات ’’افرادی قوت‘‘ بھی پہلے سے کہیں زیادہ کر دی گئی ہے۔ مرکزی عمارت تک پہنچنے کیلئے اب صرف ایک راستہ باقی رہ گیا ہے۔ موٹرسائیکلوں کیلئے الگ راستہ ختم کر دیا گیا ہے۔