الگ الگ مذہبی جماعتوں کا کوئی مستقبل نہیں، گرینڈ الائنس بنایا جائے: پیر اعجاز ہاشمی

لاہور (اشرف ممتاز / نیشن رپورٹ)  جمعیت علمائے پاکستان  کے صدر  پیر اعجاز ہاشمی نے خبردار کیا ہے کہ  منتشر اور الگ الگ  مذہبی جماعتوں کا سیاست میں کوئی مستقبل نہیں اور یہ جماعتیں  اسی طرح  منتشر رہیں اور انہوں نے کوئی گرینڈ الائنس نہ بنایا تو سیکولر قوتیں انہیں سیاست سے باہر کر دیں گی۔ ’’دی نیشن‘‘ کو اپنے ایک خصوصی  انٹرویو میں پیر اعجاز ہاشمی  نے جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ف سے مطالبہ کیا کہ وہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن سے اتحاد ختم کرکے مذہبی جماعتوں کے بڑے اتحاد کا راستہ نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمعیت علمائے پاکستان کے تمام دھڑوں کو متفق کرنے کی کوششوں کا آغاز  کر چکے ہیں اور  چند ہفتوں میں دیگر جماعتوں سے بھی رابطوں کا آغاز کرینگے۔  انہوں نے کہا کہ اپنے دعووں کے باوجود تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن بھی  پی پی، متحدہ اور اے این پی کی طرح کی سیکولر پارٹیاں ہیں۔ مذہبی جماعتوں کو ان تمام پارٹیوں کے ساتھ لڑنے کیلئے تیاری کرنا ہو گی۔  انہوں نے کہا کہ مجوزہ  الائنس  کی قیادت کی پیشکش  جماعت اسلامی اور جے یو آئی ف کو  کرکے جے یو پی پچھلی  نشستوں پر  رہنے  کا ارادہ رکھتی ہے۔ نئے مجوزہ  اتحاد کی سربراہی  کے متعلق انہوں  نے کہا کہ کوئی بھی شخص  جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر نظام مصطفیٰ  کے نفاذ کیلئے  کام کرنے پر تیار ہو اس اتحاد کا سربراہ بن سکتا ہے۔  انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کسی پارٹی میں بھی شاہ احمد نورانی  اور قاضی حسین احمد جیسے  قدکاٹھ والے رہنما موجود نہیں،  ماضی میں  ایم ایم  اے  کے اتحاد کے ذریعے مذہبی پارٹیاں خیبر پی کے  اور بلوچستان  میں  حکومتیں  کر چکی ہیں۔  سیکولر قوتوں  کے پاس بڑے وسائل  ہیں اور وہ ان وسائل کو خرچ کرکے مذہبی جماعتوں کیلئے  خطرہ  بن چکی ہیں۔ مذہبی جماعتوں کو ایک دوسرے کو کافر و مشرک کہنے کے رجحان  سے نکلنا ہو گا۔ اس وقت جے یو پی  کے دو گروپ  ہیں ایک پیر اعجاز ہاشمی اور دوسرا گروپ  صاحبزادہ  ابوالخیر  زبیر کی سربراہی میں سرگرم ہے  اور دونوں دھڑوں  میں اتحاد کیلئے رابطے جاری ہیں۔  انہوں نے کہا کہ جے یو پی  بلدیاتی  الیکشن میں فعال کردار ادا کریگی۔