آج بھی خواتین فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں، فکری انقلاب ضروری ہے : مقررین

آج بھی خواتین فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں، فکری انقلاب ضروری ہے : مقررین

لاہور (خصوصی رپورٹ) بچیوں کی کم عمری میں شادی ان کی صحت کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ کئی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ ہمارے ہاں آج بھی خواتین فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں ان حالات میں فکری انقلاب کی ضرورت ہے۔ اسلام نے عورت کو بحیثیت ماں، بیوی، بیٹی اور بہن کے بہت بلند مقام دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان میں عالمی یوم خواتین کے سلسلے میں خصوصی نشست بعنوان ’’پاکستان کی معاشی ترقی میں خواتین کا کردار اور ذمہ داریاں‘‘ کے دوران کیا۔ نشست کی صدارت جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے کی۔ نشست کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا ۔ اس موقع پر ڈاکٹر نوشین حامد ایم پی اے، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، بیگم صفیہ اسحاق، ڈاکٹر خالدہ امجد، ڈاکٹر عارفہ صبح خان، سلمان عابد، بیگم حامد رانا، کنول نسیم، ڈاکٹر راشدہ قریشی، پروفیسر مسرت کلانچوی، افنان بابر، ملکہ صبا، فوزیہ چیمہ، نائلہ عمر، شاہد رشید، اساتذۂ کرام ‘طالبات اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والی خواتین بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ تلاوت کلام پاک اور نعت رسولؐ پڑھنے کی سعادت حفصہ خالد اور نادرہ بتول نے حاصل کی۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شعبۂ خواتین کی کنوینر بیگم مہناز رفیع نے انجام دیے۔  جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ اگر ہم خواندگی کی شرح میں اضافہ کر لیں تو نظام میں تبدیلی آجائے گی۔ انہوں نے کہا پاکستانی عورت آج بھی گھریلو تشدد کا شکار ہو رہی ہے۔ پاکستانی آئین میں مردو عورت کو برابری کا درجہ دیا گیا ہے۔ بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ اس سال عورتوں کے عالمی دن کا موضوع ’’عورت کی بااختیاری انسانیت کی بااختیاری ہے‘‘ رکھا گیا ہے۔ ہمارے ہاں دیہات میں کام کرنیوالی عورت کو کسی بھی شمار میں نہیں لایا جاتا۔ خواتین ظلم و تشدد اور استحصال کا شکار ہیں۔ بیگم صفیہ اسحاق نے کہا کہ اسلام نے عورت کو بحیثیت ماں، بیوی، بیٹی اور بہن کے بہت بلند مقام دیا ہے۔ خواتین پاکستان کی آبادی کا نصف ہیں لہٰذاانہیں زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔    پروفیسر ڈاکٹر پروین خان نے کہا کہ ہمیں اپنے عورت ہونے پر فخر کرنا چاہئے۔ قائداعظم نے فرمایا تھا کہ خواتین تلوار اور قلم سے زیادہ طاقتور ہیں۔ سلمان عابد نے کہا کہ ہمارے ہاں ابھی تک عورتوں کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ خواتین کی آبادی کا 60 فیصد ناخواندہ ہے۔ بدقسمتی سے اس خطے میں دوران زچگی سب سے زیادہ اموات پاکستان میں ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر نوشین حامد ایم پی اے نے کہا کہ جو قوم عورتوں کے بنیادی حقوق کا خیال رکھتی ہے وہ ترقی کی منازل طے کرتی ہے۔ ڈاکٹر عارفہ صبح خان نے کہا کم عمری کی شادی  پر سزا بڑھانے کے بل کا پاس ہوناخوش آئند اور حوصلہ افزا ہے۔  پروفیسر مسرت کلانچوی نے کہا کہ خواتین نے بھی تحریک پاکستان میں نمایاں حصہ لیا اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا کردار ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ افنان بابر نے کہا کہ اسلام نے باقی مذاہب کے مقابلے میں عورت کو بلند مقام عطا کیا ہے۔ اسلام نے عورت کو زنجیروں سے آزادی دلائی اور اس کا وقار بلند کیا۔ پروگرام کے دوران خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے دستاویزی فلم ’’میں سفر میں ہوں‘‘ بھی دکھائی گئی۔