پیپلزپارٹی نے 8برسوں سے جاری مفاہمتی پالیسی کی ناکامی کو تسلیم کرلیا

لاہور(سید شعیب الدین سے) پیپلزپارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں برسوں سے جاری مفاہمتی پالیسی کی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے اور پارٹی کی ڈوبتی ساکھ کو بحال کرنے کیلئے جاری پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، مفاہمتی سیاست کو خیبرباد کہہ کر حکومتی اور دیگر بڑی پارٹیوں کے ساتھ پی پی پی کی روایتی مزاحمتی پالیسی کو ترویج دی جائے گی، پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی وطن واپسی اور سیاست میں فعال ہونے کے فیصلے کے نتیجہ میں کہا گیا ہے سیاسی حلقوں نے اس بارے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے یہی وہ طریقہ ہے جس سے پارٹی کو فعال اور پھر سے زیادہ زندہ کیا جا سکتا ہے، پی پی پی نے ہمیشہ عالمی مسائل، انسانی حقوق کی پامالی، فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی اور کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جنگ میں ہمیشہ کھل کر موقف اختیار کیا اور کبھی منافقت سے کام نہیں لیا، ذوالفقار بھٹو اور ان کی صاحبزادی بینظیر بھٹو انہی وجوہات کی بنا پر عالمی سطح پر عزت سے دیکھے جاتے ہیں ، اس بارے میں پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا اب وقت آ گیا ہے کہ مفاہمت کی پالیسی کو ترک کر کے پارٹی کی ’’جنرک سیاست‘‘ کو بحال کیا جائے، لہذا پارٹی کے اس رویے سے شواہد سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں آصف زرداری جن کے حوالے سے یہ تنقید کی جاتی تھی انہوں نے نواز شریف سے مک مکا کرلیا ہے اور اس ضمن میں کئی حوالے پیش کئے جاتے تھے، پہلی دفعہ آصف زرداری نے مسلم لیگ ن کے پیش کردہ بجٹ کو عوام دشمن قرار دے کر مسترد کردیا ہے، علاوہ ازیں ملک بھر میں پیپلزپارٹی کے مرکزی اور صوبائی قیادت کو سندھ اور پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ ن کا بھرپور مقابلہ کرنے کی ہدایات کردی ہیں، پارٹی کارکن رویے میں اس تبدیلی کو مثبت قرار دے رہے ہیں اس حوالے سے منظور وٹو سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کو درپیش خطرات سے بچنے کیلئے ضروری تھا احتجاجی پالیسی سے گریز جائے ، اب جب جمہوریت کو خطرہ لاحق نہیں رہا تو احتجاجی سیاست کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، انہوں نے کہا عوام کے حقوق کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، حکومت سے عوام کی بہتری اور فلاح کیلئے اپنی بات منوائیں گے، مسلم لیگ ن لاہور کے صدر اور رکن قومی اسمبلی پرویز ملک نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم اور ہماری جماعت محب وطن ہیں اور ہماری پالیسیاں بھی وطن کے مفاد کے تحفظ کی آئینہ دار ہوتی ہیں، پیپلزپارٹی تواتر سے اپنی پوزیشن تبدیل اور پالیسیوں کی ازسر نو تشکیل کرتی رہتی ہے، ہماری کوشش ہوگی ہم ان سے تصادم کی پالیسی سے گریز کریں، تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عمر سرفراز چیمہ نے کہا مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے 80 اور 90 کی دہائی میں ایک دوسرے کے خلاف جو مقدمات درج کئے وہ صرف دکھاوا تھا، ان پر پردہ ڈالنے کیلئے میثاق جمہوریت کیا گیا۔ اب پھر دکھاوے کیلئے بیان بازی کی جائے گی تاکہ عوام کو بیوقوف بنایا جا سکے، اب یہ نورا کشتی کے ذریعے عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔