ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں بائیومیٹرک سسٹم کے نفاذ کا فیصلہ

ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں بائیومیٹرک سسٹم کے نفاذ کا فیصلہ

لاہور(اے پی پی) ملک بھر کی سرکاری یونیورسٹیز میںامتحانات کی شفافیت اورنقل کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے بائیومیٹرک سسٹم کے نفاذ کا فیصلہ کرلیا گیاہے،جبکہ آئندہ سال سے گریجویشن،ایم اے /ایم ایس سی،ایم فل ،پی ایچ ڈی کے امتحانات میں طلبہ کی حاضری بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے لگائی جائیگی، ہائر ایجوکیشن کمشن نے تمام سرکاری یونیورسٹیز کو مراسلہ جاری کردیا۔اس حوالے سے ہائر ایجوکیشن کمشن نے امتحانات کو شفاف و فول پروف اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے ،نقل کی روک تھام کیلئے ملک بھر کی سرکاری یونیورسٹیز میں طلبہ کی حاضری کو بائیومیٹرک سسٹم کرنے کیلئے منصوبہ بندی شروع کردی ہے، اس سلسلے میں ہائر ایجوکیشن کمشن نے تمام سرکاری یونیورسٹیز کو مراسلہ بھی جاری کردیا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں میں نقل کی روک تھام ، امتحانات کو فول پروف اور شفاف بنانے کیلئے بائیومیٹرک سسٹم کے نفاذ کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذرائع نے اے پی پی کو بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اہم تعلیمی پروگرامز کی معاون تدریسی ورکشاپس میں حاضری کو یقینی بنانے اور ورکشاپ میں طلبہ کی شرکت کولازمی بنانے کے لئے آئندہ سمسٹر سے بائیومیٹرک سسٹم متعارف کرایا جائیگا،جبکہ اگلے سال سے اوپن یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقد ہونیوالے امتحانات میں طلبہ کی حاضری بھی بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے لگائی جائیگی۔ ذرائع نے یہ بھی بتا یا ہے کہ گریجوایشن سمیت دیگر امتحانات میں متعلقہ طالب علموں کی جگہ دوسرے افراد کی شرکت جیسے واقعات کی روک تھام سمیت دیگر تمام امکانات کو ختم کرنے کے لئے بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔