’’بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت قرار دینا نامنظور‘‘ ٹرمپ کے فیصلے پر دنیا بھر میں احتجاج جاری

لاہور+ اسلام آباد+ نیو یارک+ ریاض+ مقبوضہ بیت المقدس (نیوز ایجنسیاں+ خصوصی نامہ نگار+ نوائے وقت رپورٹ+ نامہ نگاران) امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد عالمی رہنمائوں کی جانب سے مذمت اور مختلف علاقوں میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کر لیا گیا ہے۔ ترک صدر طیب اردگان نے صدر ممنون کو فون کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ امریکی صدر کے فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام پر منفی اثر پڑیگا، جماعت اسلامی آج ملک گیر احتجاج کرے گی۔ فرانس، بولیویا، مصر، اٹلی، سینیگال، سویڈن، برطانیہ اور یورو گوائے کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جمعہ کو ہوگا۔ جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پر غور کیا جائے گا۔ یورپی یونین کی جانب سے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے مستقبل کا فیصلہ بات چیت کے ذریعے نکالنا چاہیے۔ برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدام امن عمل میں مددگار نہیں ہوگا۔ کینیڈا کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیل فلسطین تنازع کے حل سے کیا جاسکتا ہے۔ سعودی شاہی عدالت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینا بلا جواز اور غیر ذمہ دارانہ قدم ہے۔ امید ہے کہ عالمی برادری کی خواہش دیکھتے ہوئے امریکی انتظامیہ اپنا فیصلہ واپس لے گی۔ سعودی عرب اس اقدام کی مذمت کرتا ہے۔ دوسری جانب امریکی سفات خانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے اعلان کے بعد فلسطین میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے سے دو ریاستی حل تباہ ہو گیا۔ ادھر حماس کی طرف سے نئی انتفادہ شروع کرنے کا اعلان بھی کر دی گیا۔ امریکی اقدام کے خلاف فلسطینی علاقوں میں مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے جن میں مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کیے گئے۔ طیب اردگان اور ممنون حسین نے اس بات پر اتفاق کیا 1967ء کی سر حد اور بیت المقدس دارالحکومت والی فلسطینی ریاست کے قیام تک امن نہیں ہو گا۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا امریکی صدر کے فیصلہ سے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام پر منفی اثر پڑے گا۔ ترجمان چینی دفتر خارجہ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے امریکی فیصلے سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔ انڈونیشیا کے صدر نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا باعث بنے گا۔ فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ فیصلے کے خلاف دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، برلن میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اسی طرح غزہ، مغربی کنارے ، لبنان، اردن اور ترکی میں بھی مظاہرے کئے گئے ادھر امریکہ جرمنی اور فرانس نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس کے دورے میں احتیاط کریں۔ جماعت اسلامی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف آج ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینا جلتی پر تیل ڈالنے جیسا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ حرم مکی شریف کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے کہا بیت المقدس عرب اور اسلامی شہر ہے اور یہی اس کی شناخت باقی رہے گی۔ سپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں امریکی سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ امریکی اقدام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ امریکہ فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لے۔ قرارداد وفاقی وزیر برجیس طاہر نے پیش کی۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے روس کو ٹرمپ کے اعلان سے متعلق شدید تشویش اور تحفظات ہیں۔ امریکی اقدام اسرائیل، فلسطین کے کشیدہ تعلقات کو مزید بگاڑنے کا سبب ہو گا۔ امریکی اقدام سے خطے کی سکیورٹی کو لاحق خطرات بڑھ جائیں گے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے فیصلے سے سخت صدمہ پہنچا اور مایوسی ہوئی ہے۔ اس اقدام سے پاکستان اور امت مسلمہ میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ ترک صدر کے او آئی سی اجلاس بلانے کے مطالبے کی حمایت کرتا ہوں۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن و حکومتی ارکان نے ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارتخانہ وہاں منتقلی کے اعلان کے خلاف الگ الگ قراردادیں جمع کرا دی ہیں ، اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئی اسے اشتعال انگیزی قرار دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے ڈونلڈٹرمپ کا امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کیخلاف قرارداد جمع کرا دی۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر سید وسیم اختر نے بھی ٹرمپ کے خلاف امریکن صدر ڈونلڈ ڈرمپ کے خلاف قرارداد جمع کروا دی۔ اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے ٹرمپ کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اسے کھلی و ننگی جارجیت قرار دیدیا اور کہا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلاکر اس گھمبیر مسئلہ پر عوامی امنگوں کے مطابق قومی پالیسی کا اعلان کیا جائے۔ پاکستان علماء کونسل نے امریکی صدر کے القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آج (جمعۃ المبارک) کو ملک بھر میں لبیک یا اقصیٰ کے عنوان سے یوم احتجاج منانے اور اگلے ہفتے اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے ، اسلامی ممالک کو امریکہ کا سفارتی، اقتصادی اور معاشی بائیکاٹ کرنا چاہیے ، امریکی صدر نے امن کو تباہ کرنے کی سازش کی ہے جس کا بھرپور جواب دینا ہوگا۔ دفاع پاکستان کونسل اور جماعۃ الدعوۃ کی اپیل پر ملک بھر میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ لاہور، اسلام آباد، پشاور، ملتان، کوئٹہ، حیدر آباد، فیصل آباد، بہاولپور و دیگر شہروں میں ہونے والے مظاہروں و ریلیوں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ لاہور میں دفاع پاکستان کونسل کے تحت پریس کلب کے باہر بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ دفاع پاکستان کونسل کی طرف سے آج جمعہ کو بھی ملک گیر یوم احتجاج منایا جائے گا اتوار کو کراچی میں ملین مارچ ہوگا۔ مولانا سمیع الحق، حافظ محمد سعید، حافظ عبدالرحمان مکی،مولانا امیر حمزہ ، علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر و دیگر نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان مسلم دنیا کے خلاف کھلا اعلان جنگ ہے۔ فیصل آباد گھنٹہ گھر چوک تک احتجاجی ریل بھی نکالی گئی شرکاء کی جانب سے امریکہ اسرائیل کے جھنڈے نذر آتش کئے گئے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ کا پتلا بھی جلایا گیا ملتان میں نواں شہر چوک میں دفاع پاکستان کونسل کے تحت احتجاجی مظاہرے میں میاں سہیل احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل کو ملک ہی تسلیم نہیں کرتے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہﷺ کے قائدین ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی، میاں ولید احمد شرقپوری، پیر سیدنوید الحسن مشہدی، مفتی میاں تنویر احمد کوٹلوی، مفتی محمد عابد جلالی، پیر سید محمد خرم ریاض شاہ رضوی، پیر محمد اقبال ہمدی، ڈاکٹر محمد ظفر اقبال جلالی، پیر سید محمد ضیاء الاسلام شاہ گیلانی، علامہ محمد عبد الرشید اویسی، صاحبزادہ محمد داؤد رضوی،خواجہ محمد حسن باروی،پیر محمد امین اللہ سیالوی، صاحبزادہ مرتضی علی ہاشمی نے اپنے مشترکہ بیان میںمقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت قرار دینے کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کی بھر پور مذمت کی ہے، انہوں نے کہا فلسطینیوں پر کیے جانے والے مظالم کے پیچھے ہمیشہ امریکی ہاتھ رہا ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے وہ ہاتھ بے نقاب کردیا ہے۔ سراج الحق نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی طرف سے 13 دسمبر کو بلائے گئے او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کریں اور اس معاملے پر مسلم ممالک کو متحد کرنے کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ تحریک لبیک کے سرپرست اعلی پیر محمد افضل قادری اور مرکزی امیر علامہ حافظ خادم حسین رضوی نے اعلان کیا آج پاکستان اور دنیا بھر میں یوم تحفظ بیت المقدس منایا جائے گا۔ چیچہ وطنی سے نامہ نگار کے مطابق دفاع پاکستان کی طرف سے بیت المقدس کو امریکہ کی طرف سے اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ مجلس وحدت مسلمین کے سرباہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بھی آج امریکہ کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا اعلان کر دیا بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے امریکی اعلان کے خلاف مجلس وحدت مسلمین نے گزشتہ روز بھی شہر کے مختلف علاقوں میں پرامن احتجاج کیا۔ اہل سنت جماعت کے گرینڈ الائنس نظام مصطفے متحدہ محاذ نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا اعلان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم حکمران بیت المقدس میں اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے خلاف مشترکہ آواز اٹھائیں۔ پاکپتن سے نامہ نگار کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کے خلاف اتحاد بین المسلمین کی طرف سے احتجاجی ریلی نکالی گئی اور نعرے بازی کی گئی ۔ ادھری امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرکے امریکیوں کی خواہش کو پورا کیا ہے۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی سخت مذمت کی ہے۔ شہبازشریف نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر پاکستانی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ امریکی صدر کی طرف سے امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اعلان سے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے مذہبی احساسات و جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں اور امریکہ کے اس اقدام سے امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کی بجائے ایک مرتبہ پھر قیام امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے اور اس اقدام سے فلسطینی عوام کو ایک بار پھر دھوکہ دیا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے نے فلسطینی عوام کے امریکہ پر عدم اعتماد میں مزید اضافہ کیا ہے اور امریکہ کی امن کیلئے منصفانہ کوششوں پر عدم اعتماد میں بھی مزید اضافہ ہوا ہے۔ جب کئی دہائیوں پر مشتمل تنازعہ پر جماعتیں عدم اعتماد کا اظہار کریں اور تنازع کو حل کرنے کی کوششیں بھی نہ کی جائیں تو پھر امن کے قیام کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو پاتی۔ امریکہ کی ناقابل یقین اور غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں نے تنازع کے دو ریاستی حل تلاش کرنے کی کوشش کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ تنازع کے حل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ عالمی برادری کا غم و غصہ بالکل جائز ہے اور عالمی برادری اس غصے کیلئے حق بجانب ہے۔ وزیراعلیٰ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے حوالے سے امریکی اعلان پر ترک صدر رجب طیب اردگان کے اس بیان کی توثیق کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کے اس اقدام نے پرانے زخموں کو دوبارہ کھول دیا ہے اور مشرق وسطیٰ کو ایک بار پھر بے یقینی اور افراتفری کی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ عالمی برادری ایسی تنگ نظری کی پالیسیوں کو برداشت نہیںکر سکتی جو عوام کی توہین کا باعث ہوں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد اور عالمی برادری ایسی تنگ نظری کی پالیسیوں کو برداشت نہیں کرسکتی جو عوام کی توہین کا باعث ہوں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد اور عالمی برادری کی رائے کے مطابق فلسطینی عوام کو آزاد خودمختار ریاست کا حق حاصل ہے‘ لیکن ٹرمپ انتظامیہ قیام امن کی کوششوں کو مزید آگے لے جانے کی بجائے علاقائی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی نے امریکہ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارت خانہ وہان منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف متفقہ قرارداد مذمت منظور کر تے ہوئے امریکہ سے یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعرات کی شام ایوان زیریںکے اجلاس میں وزیر امور کشمیر برجیس طاہر نے قرار داد پیش کی ۔ قرار داد میںکہا گیا ہے کہ یہ اقدام امت مسلمہ پرایسے وقت میں براہ راست حملہ ہے جب مشرق وسطی کو جنگی صورتحال اور تنازعات کاسامنا ہے۔قرارداد میں کہاگیا کہ یہ امریکی اقدام بین الاقوامی قانون اس معاملے پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کئی قراردادوں اورمسئلہ فلسطین کے حل سے متعلق عالمی اتفاق رائے کی بھی خلاف ورزی ہے۔قومی اسمبلی نے جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے حتمی اعلامیے کی منظوری کی توثیق کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس امریکی اقدام کے خلاف ٹھوس سفارتی اقدامات کے لئے او آئی سی تنظیم کی کوششوں میں تیزی لانے میں مدد دے۔ ارکان قومی اسمبلی نے صدر امریکہ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے امریکی اقدام کو مزید عدم استحکام پیدا کرنے اور تشدد کی آگ بڑھکانے کا پیش خیمہ قرار دیا۔ ایوان مین یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ پاکستان میں امریکی سفیرکو وزارت خارجہ میں طلب کیا جائے۔ جمعرات کے روز اس معاملہ پرقرارداد کی منظوری کے بعد عام بحث ہوئی جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی نوید قمر نے کہا جس روز امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کیا وہ ایک تاریک دن ہے۔ یہ اقدام ایک گریٹ گیم کاحصہ ہے۔ دیکھنا ہے کہ امریکا کے دوست اب کیا موقف اپناتے ہیں۔ امریکی اقدام سے اسرائیل کو بڑی تقویت ملی ہے ،۔ سعودی عرب کیسے کہے گا کہ مشرق وسطیٰ کا دوست ہے ، مسلم دنیا کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے ، اس معاملہ پر اب متحد ہونے کا وقت ہے۔شعیہ سنی سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا ، پاکستان کو قائدانہ کردارادا کرنا چاہیے ۔ ، ہم اس معاملے پر متحد ہیں اور ہم سب کا نکتہ نظر ایک ہے، اس اقدام سے امن عمل تباہ ہوگیا ہے، اس اقدام سے دہشتگردی کے خلاف جنگ متاثر ہوگی،۔تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر آج تک سیاسی اختلافات کے باوجود قومی اتفاق رائے موجود تھا اور یہ مستقبل میں موجود رہنا چاہیے ۔ متفقہ قرارداد اس اتفاق رائے کی عکاسی کرتی ہے۔ اسرائیل کی بربریت اور طاقت کے بل بوتے پر فلسطین کی آزادی کی آواز دبانے کی کوشش ہوتی رہی ہے ، مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کیلئے فلسطین کے مسئلہ کا حل ضروری ہے ۔ مولانا امیر زمان نے کہا کہ ٹرمپ کا اعلان عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے ، پاکستان امریکہ کی جنگ سے نکل جائے اور علیحدگی کا اعلان کرے ۔ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ امریکی صدر کے فیصلہ نے آگ بھڑکا کر پوری دنیا کے امن کو خطرہ میں ڈال دیا ہے ۔ ۔غوث بخش مہر نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف سازش نئی نہیں ہے ، یہ خلافت عثمانیہ کے خلاف بھی ہوتی تھی ۔ امریکہ کا فیصلہ افسوسناک ہے ، مسلم دنیا امریکہ پر زوردے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے ۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ امریکی اقدام مسلم امہ کی پیٹھ پر چھرا گھونپنے کے مترادف ہے ، غیر مسلم دنیا اور جن ممالک نے اس اقدام کی مذمت کی ہے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، حکومت اور دفتر خارجہ کا بیان خوش آئند ہے ۔ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ بلا کر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جائے اور مذمت کی جائے ۔ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرے ۔ امریکہ کا مقابلہ کرنے کیلئے پالیسی کی ضرورت ہے ۔ غلام احمد بلور نے کہا کہ مسلمانوں کی خوش قسمتی ہے کہ امریکہ کے قدم کی غیر مسلم ممالک نے بھی مخالفت کی ہے ، مسئلہ کے حل کیلئے غیر مسلم ممالک سے بھی مشاورت کی جائے اعجاز الحق نے کہا کہ امریکی صدر کا بیان اتنی بڑی حیرت نہیں ہے وہ اس سے بڑا اقدام اٹھا سکتا ہے ۔ امریکی صدر کے فیصلے کے بعد مسلمانوں کا امتحان آگیا ہے۔ آفتاب شیرپائو نے کہا کہ امریکی صدر کی متنازعہ تقریر کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔ امریکی فیصلہ سے تشدد بڑھے گا ۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا ۔ غازی گلاب جمال نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے یروشیم میں سفارتخانہ کو منتقل کرنے کا اعلان افسوسناک ہے ۔ وزیر خارجہ ایوان کو پاکستان کے مئوقف سے آگاہ کریں ۔ پاکستان مسئلہ کے حل کیلئے اہم کردارادا کرے ۔ ترکی کے صدر کیساتھ مسئلہ کے حوالے سے مکمل تعاون کرنا چاہیے ، مسلم دنیا میں انتشار ہے ، اس سے یہ فائدہ اٹھا رہے ہیں ، یہ صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کا مسئلہ ہے۔ محمود بشیر ورک نے کہا کہ امریکی صدر کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ ایسا فیصلہ کر ان کا اقدام قابل مذمت ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی قرارداد کی کیا حیثیت ہوگی ، جہاں اس ملک کے ادارے اس کا احترام نہ کریں۔ فلسطین کا مسئلہ اتنا آسان نہیں ہے ۔پاکستان کے اپنے حالات خراب ہیں ، احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ دریں اثناء ترجمان دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ دنیا بھر کی ریاستوں کی طرف سے بیت املقدس کی قانونی اور تاریخی حثییت تبدیل نہ کرنے کی گزارشات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ کسی ضرورت کے بجائے انتشار کا نتیجہ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کا فیصلہ اقوا متحدہ کے منشور، عالمی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں اور روایا ت کی صریح خلاف ورزی ہے جس کے نتیجہ میں مشرق وسطیٰ میں امن کوششوں کو شدید دہچکہ لگے گا۔پاکستان اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے اور ضروری اقدامات کرے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلہ کے سنگین نتائج سے بچنے کیلئے امریکہ اس اقدام پر نظر ثانی کرے۔ حکومت پاکستان ، ترکی کی طرف سے اس سلسلہ میں اسلامی کانفرنس تنظیم کے خصوصی اجلاس بلائے جانے کے اقدام کوسراہتا ہے۔