نبی کریمؐ سے محبت ایمان کی اساس، اسوہ حسنہ پر عمل کرنا ہوگا: مقررین

لاہور(خصوصی رپورٹر)نبی کریمؐ سے محبت ہمارے ایمان کی اساس ہے۔محبت رسولؐ کا تقاضا ہے کہ ہم نبی کریمؐ کی تعلیمات پرمکمل عمل کریں۔ اگر ہم نے نبی پاکؐ کی تعلیمات کو مشعل راہ نہ بنایا تو ذلت ورسوائی ہمارامقدر ہوگی۔ آج ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے اس کی اصل وجہ دین اسلام سے دوری اور آپؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا نہ ہونا ہے۔فسادِ امت کو ختم کرنے کیلئے لوگوں کا تعلق اللہ تعالیٰ اور نبی کریمؐ کی ذات سے جوڑنا اورآپس میں مشاورت سے کام کرنا ہو گا۔اتحاد امت کیلئے ہم میں سے ہر ایک کو قربانی دینا ہو گی۔ ان خیالات کااظہار مقررین نے ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان ،لاہور میں تقریبات عید میلاد النبیؐ کے سلسلے میں منعقدہ دو روزہ سیرت النبیؐ کانفرنس کے دوسرے روزاختتامی نشست کے دوران کیا۔ نشست کے مہمان خاص سجادہ نشین آستانۂ عالیہ بھرچونڈی شریف حضرت پیر میاں عبدالخالق قادری تھے۔ سابق چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، قاری محمد زوار بہادر، قیوم نظامی، نصیر احمد قادری ، آصف تنویر اعوان، بیگم صفیہ اسحاق،خالدہ الیاس، ارشد جاوید، علماء ومشائخ، اساتذۂ کرام اور طلبہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کثیر تعدادمیں موجود تھے۔چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد نے کہا کہ رسول کائنات، فخر موجودات حضرت محمدؐ کو خالق ارض وسما نے نسل انسانی کے لیے کامل نمونہ اور اسوئہ حسنہ بنایا ہے۔ محسن انسانیتؐ کے معمولات زندگی ہی قیامت تک کے لیے شعار و معیار ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیرۃ النبی ؐ کا ہر گوشہ تابناک اور ہر پہلو روشن ہے۔ یوم ولادت سے لے کر روز رحلت تک کے ہر لمحہ کو قدرت نے لوگوں کے لیے محفوظ کردیا ہے۔ دنیائے فانی میں ایک پسندیدہ کامل زندگی گزرانے کے لیے اللہ رب العزت نے اسلام کو نظام حیات اور رسولؐ خدا کو نمونہ حیات بنایا ہے،پیر میاں عبدالخالق قادری نے کہا کہ ماہ ربیع الاول تمام مسلمانوں کیلئے خوشیوں کا پیام لاتا ہے۔ نبی کریمؐ کی حیات طیبہ تمام مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہے اور ہمیں دین ودنیا میں کامیابی کیلئے اسوۂ حسنہ پر عمل کرنا ہو گا۔ ماہ ربیع الاول کا اصل پیغام یہ ہے کہ تمام مسلمان محض فرد اور قوم کی بجائے امت واحدہ سے منسلک ہوجائیں۔ انہوں نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے اور امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کی شدید الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے امریکہ نے عالمی امن کو خطرے میںڈال دیا ہے۔ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ نبی کریمؐ کی اس دنیا میں آمد سے قبل عرب معاشرہ جہالت میں ڈوبا ہوا تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر طویل لڑائیاں ہوتی تھیں۔آپؐ کی آمد سے عرب معاشرہ کی کایا ہی پلٹ گئی اور ایکدوسرے کے جانی دشمن بھائی بھائی بن گئے۔ قرآن پاک میں مسلمانوں کیلئے قوم کی بجائے امت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اورر تفرقہ میں نہ پڑو۔ قاری محمد زوار بہادر نے کہا کہ نبی کریمؐ کی سیرت پاک کا خاصہ ہے کہ آپؐ کی حیات طیبہ کا ایک ایک لمحہ محفوظ ہے۔ آج امت مسلمہ میں اختلافات کی واحد وجہ سیرت رسولؐ سے دوری ہے۔ صحابہ کرامؓ نے سیرت رسولؐ کو عملی طور پر اپنے اوپر نافذ کیا اور دین و دنیا کی کامیابیاں حاصل کیں۔ قیوم نظامی نے کہا کہ سیرت النبیؐ دراصل قرآن پاک کی عملی تصویر ہے۔اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے اور یہ فرقہ واریت کی مخالفت کرتا ہے۔ اگر امت مسلمہ متحد ہو جائے تو طاغوتی طاقتوں کو مسلمانوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأ ت نہیں ہو گی۔ علامہ نصیر احمد قادری نے کہا کہ نبی پاکؐ کی سیرت مبارک پر کانفرنس منعقد کرنے پر میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔ کلمہ طیبہ پڑھنے والے سب مسلمان اور ایک امت کا حصہ ہیں۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ نبی پاکؐ کی شان بیان کی گئی ہے۔آصف تنویر اعوان نے کہا کہ آپؐ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔نبی پاکؐ کے امتی ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ حضور اکرمؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں۔ شاہد رشید نے کہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تمہارے لیے نبی پاکؐ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔نبی کریمؐ کی ذات کامل و اکمل ہے۔ہمیں زندگی کے ہر معاملے میں رہنمائی کیلئے آپؐ کی ذات مبارکہ کو دیکھنا ہو گا ۔