نواز شریف سے سر کا خطاب واپس لینے کی درخواست حکومتی جواب نہ آنے پر ہائیکورٹ برہم

نواز شریف سے سر کا خطاب واپس لینے کی درخواست حکومتی جواب نہ آنے پر ہائیکورٹ برہم

لاہور (آن لائن)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مامون رشید شیخ نے نواز شریف سے سر کا خطاب واپس لینے کیلئے دائر درخواست میں وفاقی حکومت کی جانب سے جواب داخل نہ کرانے پر لاہور ہائیکورٹ کاسخت اظہار برہمی، عدالت نے وفاقی حکومت کو جواب داخل کرانے کا آخری موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ سماعت پر جواب نہ آیا تو یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔درخواست گزار بیرسٹر سید جاوید اقبال جعفری نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان کی 50 سالہ تقریبات کے موقع پربرطانوی ملک نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سر کا خطاب دیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سر کا خطاب وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر وصول کیا جو کہ آئین کے آرٹیکل 2اے اور249کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں عرفان اکرم نے وفاقی حکومت کا جواب داخل کرنے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی، جس پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ برس گزر گیا وفاقی حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے، نواز شریف کے اشتہار بھی جاری کئے گئے مگر نہ ہی وہ اصالتا پیش ہوئے نہ ہی وکالتا ان کی طرف سے جو وکیل پیش ہوتے رہے اب وہ بھی عدالت میں پیش نہیں ہورہے ، عدالت نے صبرو تحمل کا بہت مظاہرہ کر لیا مزید تاخیری حربے برداشت نہیں کئے جائیں گے، عدالت نے سماعت 10 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کروایا تو یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔