اربوں روپے کے وسائل مفت علاج کے لئے دئیے گئے، ثمرات مریضوں تک پہنچنے چاہئیں: شہباز شریف

اربوں روپے کے وسائل مفت علاج کے لئے دئیے گئے، ثمرات مریضوں تک پہنچنے چاہئیں: شہباز شریف

لاہور (خصوصی رپورٹر‘نامہ نگار) وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی سخت مذمت کی ہے۔ شہبازشریف نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر پاکستانی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے حوالے سے امریکی اعلان پر ترک صدر رجب طیب اردگان کے اس بیان کی توثیق کی ہے۔ عالمی برادری ایسی تنگ نظری کی پالیسیوں کو برداشت نہیںکر سکتی جو عوام کی توہین کا باعث ہوں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد اور عالمی برادری ایسی تنگ نظری کی پالیسیوں کو برداشت نہیں کرسکتی جو عوام کی توہین کا باعث ہوں۔ شہبازشریف نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال رائے ونڈ کا بغیر پروٹوکول اچانک دورہ کیا۔ وہ بغیر اطلاع تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال رائے ونڈ پہنچے۔ انتظامیہ مکمل طورپر لاعلم رہی۔ وزیراعلیٰ ہسپتال کے مختلف وارڈز میں گئے اور طبی سہولتوں کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے ایمرجنسی میں لائے گئے ایک مریض کی جانب سے مفت ادویات نہ ملنے کی شکایت پر سخت برہمی کا اظہار کیا متعلقہ ڈاکٹر کو طلب کرکے اس کی سرزنش کی اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریض کو فوری طورپر مفت ادویات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کے وسائل مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کیلئے دیئے گئے ہیں اور ان وسائل کے ثمرات ہر صورت مریضوں تک پہنچنے چاہئیں۔ وزیراعلیٰ نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال رائے ونڈ میں سی ٹی سکین مشین فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ ہسپتال میں ڈینٹل کلینک اور ای این ٹی کلینک کو جلد فنکشنل کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے وارڈز میں موجود پرانے ہیٹر کی موجودگی پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوری طورپر نئے ہیٹر لگائے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے ہسپتال کی لیبارٹری کا بھی دورہ کیا اور وہاں امراض کی تشخیص کی سہولتوں کا جائزہ لیا اور لیب کے جدید نظام پر اطمینان کا اظہار کیا اور وہاں موجود ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی کارکردگی کو سراہا۔ وزیراعلیٰ نے فلٹر کلینک میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ بیٹھ کر ان کی فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں کے بارے میں پوچھا۔ شہبازشریف