پی ایم ڈی سی کی تشکیل غیر قانونی ہے: ہائیکورٹ‘ نجی میڈیکل کالجز کو براہ رست داخلوں کی اجازت

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تشکیل غیر قانونی قرار دے دی۔ عدالت نے نجی میڈیکل کالجز کو براہ راست داخلہ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے 2016ء کی سینٹرل ایڈمیشن پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا۔ دو رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے نجی میڈیکل کالجز کو سال 2013 کی پالیسی کی روشنی میں داخلے کرنے کی اجازت دے دی۔ موجودہ کونسل کو نئے انتخابات ہونے تک صرف انتظامی امور جاری رکھنے کی ہدایت کردی اور وفاقی حکومت کو پی ایم ڈی سی کے نوے یوم میں انتخابات کرانے کاحکم دے دیا۔ عدالت نے اے لیول، او لیول اور بیرون ملک سے پڑھ کر آنے والے طلبہ کو سیٹ ٹو اینٹری ٹیسٹ کی بنیاد پر داخلے کا اہل قرار دے دیا۔ عدالت نے پی ایم ڈی سی کے تمام آرڈیننس کالعدم قرار دے دئیے۔ عدالت نے مشترکہ کونسل کو پی ایم ڈی سی کے موجودہ قوانین کا جائزہ لے کر چھ ماہ میں نئے قوانین تشکیل دینے کی ہدایت کر دی۔ نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پی ایم ڈی سی کے قوانین بنانے سے قبل مشترکہ مفادات کونسل میں زیر بحث نہیں لایا گیا۔ پی ایم ڈی سی کے قانونی مشیر نے موقف اختیار کیا تھا کہ تمام نجی اور سرکاری میڈیکل کالجز پی ایم ڈی سی کے قوانین اور قواعد و ضوابط کے پابند ہیں۔ عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے وکیل محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے مافیا کو کھلی چھٹی مل گئی۔ انہوں نے بتایا کہ وائی ڈی اے کے فریق بننے کی درخواست پر عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا۔
پی ایم ڈی سی