سانحہ ماڈل ٹائون بربریت ‘ سڑکوں پر آئیں گے: زرداری ‘ قادری سے ملاقات

لاہور+اسلا م آباد ( نامہ نگار+خصوصی نامہ نگار +خبرنگار+ نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ شہداء کے جنازوں سے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ تک پی پی ہمارے ساتھ کھڑی رہی، عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا کر تھک گئے لیکن امید نہ چھوڑی۔ شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ شہداء کے ورثاء اور عوامی تحریک کے ساتھ ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن بربریت کی بدترین مثال ہے۔ ماڈل ٹاؤن سانحہ کی رپورٹ آنے کے بعد شہباز شریف کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ پی پی اب شہباز شریف کو برداشت نہیں کرے گی۔ دو گھنٹے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے طاہرالقادری نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں۔ قیام امن کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ ہم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ پوپ اور یورپین لیڈرز نے بھی امریکی فیصلے کی مذمت کی۔ امریکہ اس فیصلے سے عالمی برادری میں تنہائی کا شکار ہو گیا ہے۔ فلسطینی عوام کو خودمختار ریاست دی جانی چاہئے۔ امریکی فیصلے سے مشکلات آئیں گی اور تشدد میں اضافہ ہو گا یہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ عالمگیر سطح پر انسانی مسئلہ ہے۔ صدر ٹرمپ فیصلے پر نظرثانی کریں۔ طاہرالقادری نے کہا کہ رپورٹ میں شہباز شریف کو واضح طور پر قاتل ڈیکلیئر کیا ہے۔ رپورٹ اتنی کلیئر ہے شہباز شریف اور پنجاب حکومت کو اس خون کی ہولی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ رانا ثناء اللہ اس آپریشن کے انچارج تھے، ہم اندھیرنگری نہیں چاہتے، ہم مظلوموں کی مدد کیلئے پرامن طریقے سے جو قدم اٹھانا پڑا اٹھائیں گے۔ آصف زرداری نے کہا کہ فلسطینی کاز کیلئے پی پی نے ہر جگہ آواز بلند کی۔ ہمیں اسلامی اور یورپی ممالک کے سربراہان سے بات کرنی چاہئے۔ یورپی یونین نے بھی امریکی فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔ فیصلے سے امریکی مشکلات بڑھیں گی۔ علامہ صاحب سے ہماری پرانی وابستگی ہے، پی پی نے جہاں ضرورت ہوئی اپنی آواز اٹھائی۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے، ہم نے شہادتیں دی ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر شہباز شریف، رانا ثناء اللہ مستعفی ہوں۔ سن لو شہباز شریف! اب سڑکوں پر نکلیں گے۔ جمہوریت وہ نہیں جو نواز اور شہباز چلا رہے ہیں، ہم جیلوں میں گئے ہیں ہمیں پتہ ہے حکومت کیسے دباؤ ڈالتی ہے۔ جو قصوروار ہیں انہیں کٹہرے میں لانا چاہئے۔ متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ شہباز شریف کے خلاف جدوجہد کریں گے، ہم شریفوں کے ساتھ لڑائی کریں گے اور سڑکوں پر نکلیں گے اداروں سے نہیں۔ شریفوں سے لڑیں گے۔ سی سی آئی کے اجلاس 6,6 مہینے نہیں ہوتے ہم آئین کو توڑنے کی بات نہیں کر رہے ہے شہباز شریف کے خلاف تحریک چلائیں گے پی پی طاہر القادری کے ساتھ کھڑی ہے سیاسی طاقت کے بعد کسی تیسری قوت کے آنے کا امکان نہیں۔ ایک سوال پر کہا کہ میں نہیں سمجھتا انہیں پنجاب میں ہتھکڑی لگے لیکن سزائیں ضرور ہوں گی موجودہ مسائل کو صرف سیاسی قوتیں ہی حل کر سکتی ہیں پاکستان پر 56 ارب ڈالر کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے اگر علامہ صاحب سیاسی ڈیل کا کہیں گے تو کرلیں گے، علامہ صاحب سے کوئی سیاسی ڈیل نہیں کی، اسمبلیوں سے استعفے دینے کے سوال پر کہا کہ ہر آپشن پر غور کیا جا سکتا ہے ہم نے جمہوریت کیلئے کام کیا مغل بادشادہت کیلئے نہیں یہ خود آئین کو توڑ رہے ہیں۔ سابق صدر کے وفد میں خورشید شاہ‘ قمرالزماں کائرہ اور ڈاکٹر قیوم شامل تھے۔ عوامی تحریک کے سینئر رہنمائوں نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ انصاف کے حصول کیلئے آپ کے ساتھ ہیں، شہدا کے لواحقین کو انصاف ملنا چاہیے، (ق) لیگ کی قیادت پہلے ہی عوامی تحریک کا ساتھ دینے کا اعلان کر چکی ہے۔ ترجمان عوامی تحرک کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بھی احتجاج میں ہر طرح کا ساتھ دینے کا یقین دلا دیا۔ طاہر القادری کور کمیٹی اور وکلا کی ٹیم کے ساتھ مشاورت میں لائحہ عمل طے کریں گے۔ ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری اور طاہر القادری میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سابق صدر نے طاہر القادری کو باور کرایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سانحہ ماڈل ٹائون کے شہدا کے ساتھ کھڑی ہے اور سانحہ میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے عوامی تحریک کا بھر پور ساتھ دے گی۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بھی ڈاکٹر طاہرالقادری سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ عمران خان نے کہا کہ انصاف کے حصول کیلئے طاہرالقادری کا ساتھ دیں گے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے حمایت پر عمران خان کا شکریہ ادا کیا‘ عمران خان او رطاہرالقادری کے درمیان جلد ملاقات پر بھی اتفاق کیا گیا۔ علاوہ ازیں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ باقر نجفی رپورٹ میں سانحہ ماڈل ٹائون سے متعلق شہباز شریف کا جھوٹ سامنے آگیا، طاہرالقادری احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلے تو ان کا ساتھ دیں گے۔ سانحہ ماڈل ٹائون میں نہتے لوگوں کو گولیاں ماری گئیں اور جاں بحق ہونے والوں میں دو خواتین بھی تھیں، شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو دہشت گردی کے کیس میں اندر جانا چاہیے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ہم نے صاف اور شفاف الیکشن کے لئے پرامن سیاسی احتجاج کیا تو مجھ پر دہشت گردی کا مقدمہ بنادیا گیا،ان کا کہنا تھا کہ آمر کی گود میں پلنے والے ہی کسی پر اس طرح کی دہشت گردی کا کیس کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد جلسے کے دوران سابق صدر آصف زرداری کے رقص سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ انہیں ایسی اور پرفارمنس دینی چاہئیں۔ مزید برآں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، دونوں رہنما چند روز میں ملاقات کریں گے۔ عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کوٹیلی فون کیا اور ملاقات کی دعوت دی جو شیخ رشید نے قبول کرلی۔ دونوں رہنما آئندہ چند روز میں لاہور میں ملاقات کریں گے۔ ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں رہنمائوں نے حکومت مخالف جدوجہد کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ظالم حکمرانوں کا مقابلہ ہر سطح پر کریں گے، جھوٹ کے بل بوتے پر حکمران بچ نہیں سکیں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ شہداء ماڈل ٹائون کے ورثاء کو انصاف دلا کر رہیں گے۔ دوسری طرف پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نوازشریف سے زیادہ دولت اسحاق ڈارنے لوٹی لیکن اب لندن، دبئی اور سعودی عرب میں بے نامی دولت کی تحقیقات شروع ہوگئی ہیں، اگر آصف زرداری اور طاہر القادری کے درمیان اتحاد ہوتا ہے تو ملک گیر اپوزیشن کا ماحول بن جائے گا اور مولانا فضل الرحمان بھی آصف زرداری کے کسی نہ کسی تعویز میں آجائیں گے اور سینٹ الیکشن سے پہلے کوئیک مارچ ہو جائے گا۔ مسلم لیگ (ن)کا دھڑن تختہ ہوتے ہوئے نظرآرہا ہے، اس وقت طاہر القادری ہی نہیں بلکہ پوری قوم ہی دھرنے میں ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف جھوٹوں کے آئی جی ہیں جب کہ رانا ثناء اللہ ملک میں فرقہ وارانہ فساد کے موجد ہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے کہ طاہر القادری نے فون کر کے آصف علی زرداری کو ملاقات کی دعوت دی ہے دھرنا سیاست مثبت رنگ نہیں ہے لیکن اگر مجبور کیا جائے تو دھرنا دیا بھی جا سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں سیاسی فضا گرم ہے۔ کلچر کو بھی برداشت نہیں کیا جارہا ،طالبان کے استاد کے اتحادی طالبان خان رقص اور دھمال میں فرق نہیں جانتے ،دھمال صوفیاکا ورثہ ہے ،طالبان خان سیاست کریں کلچر پر تنقید نہ کریں ، ساری اپوزیشن پاناما پر متحد تھی ،نواز شریف کے خلاف کوئی اتحاد نہیں بن رہا۔ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو مسلکی رنگ دیا جا رہا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ایف آئی آر ہونی چاہیے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شکر ہے حمزہ بھی منظر عام پر آئے جب سے پاناما شروع ہوا وہ غائب تھے ۔جس دن حدیبیہ پیپر کھلے گا پھر حمزہ اور ان کے بڑوں کو پتہ چلے گا ۔ یا تو کمشن بننے نہیں چاہیے اگر کمشن بنائے جائیں تو رپورٹ سامنے آنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اخلاق نام کی چیز یہ حکمران نہیں مانتے طاقت والوں کی بات مانتے ہیں ۔مگر اب دھرنے والے تو تیار ہو ہی رہے ہیں۔
عمران‘زرداری فون