طالبان ہتھیار سپرد کرنے پر تیار تھے مقدمات نہ کرنے کا مطالبہ نہیں مانا گیا: فضل الرحمن

طالبان ہتھیار سپرد کرنے پر تیار تھے مقدمات نہ کرنے کا مطالبہ نہیں مانا گیا: فضل الرحمن

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ تحفظ پاکستان بل انسانی حقوق کے منافی ہے، یہی وجہ ہے ہم اس قانون کے خلاف ہیں اسے تسلیم نہیں کر سکتے، گولی مارنے کی شک غیراسلامی اور غیرقانونی ہے۔ حکومت کو ہم نے اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا تھا لیکن حکومت نے وعدے کے باوجود اقدام نہیں کئے، حکومت وطن عزیز میں وہ قوانین لا رہی ہے جو مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے نافذ کئے ہوئے ہیں، ہم وہاں پر ایسے کالے قانون کے مخالف ہیں تو یہاں پاکستان میں ایسے قانون کی کیسے حمایت کر سکتے ہیں۔ تحفظ پا کستان آرڈی نینس شرعی اور انسانی حقوق کے خلاف ہے جے یو آئی ایسے قانون کو تسلیم نہیں کریگی۔ وہ پارٹی رہنمائوں مولانا قمرالدین، مولانا عبدالمجید ندیم شاہ، ملک سکندر خان، مولانا محمد امجد خان، مفتی ابرار احمد، حاجی شمس الرحمن شمسی سے گفتگو کررہے  تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم کو اس بل کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا اور یہ واضح کیا تھا کہ اسلامی اور انسانی حقوق کیخلاف ہے اور یہ قانون عوام کے ساتھ ساتھ دینی لوگوں کیخلاف استعمال ہوگا۔ انہوں نے کہا گولی مارنے کی شق غیر اسلامی اور غیر قانونی ہے۔ فضل الرحمن نے کہا شمالی وزیرستان سے ہجرت کرنیوالے متاثرین کی حکومت مشکلات کے حل کیلئے ہنگامی طور پر اقدامات کرے۔ انہوں نے اپنے پارٹی عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ متاثرین کیلئے کھلے دل سے تعاون کریں اور مخیر حضرات بھی تعاون کے میدان میں اتریں۔ مولانا نے ایک بار پھر زور دیا حکومت امن کے قیام کیلئے مذاکرات کا دروازہ کھولے۔ جے یو آئی مذاکرات سے ہی امن کی خواہاں ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک و قوم کے مفاد میں پالیسیاں مرتب کی جائیں۔ فضل الرحمن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم کرے خصوصاً سحری، افطاری، تراویح اور نمازوں کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔ اے این این کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان اپنے ہتھیار علماء کے سپرد کرنے کو تیار ہو گئے تھے، طالبان کا مطالبہ تھا کہ ان کیخلاف مقدمات قائم نہ کئے جائیں مگر ان کی بات نہیں مانی گئی، عسکریت پسند فی الحال شہروں میں مداخلت سے معذور ہیں مگر ان کی قوت ختم نہیں ہوئی وہ ریاست کیلئے ابھی بھی خطرہ ہیں۔ سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سابق طالبان سربراہ بیت اللہ محسود نے مجھے خط لکھا تھا کہ ہم آئین پاکستان اور قانون کے اندر تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں ان کی شہادت کے بعد حکیم اللہ نے بھی اپنے خط میں ایسی ہی یقین دہانی کرائی۔ ہم نے قبائلی علاقوں میں جرگہ سسٹم کے ذریعے قیام امن کیلئے بھرپور کوششیں کیں اور کئی معاملات پر پیشرفت کا قوی امکان بھی تھا اور ان رابطوں کے نتیجے میں طالبان نے ہتھیار ڈالنے پر رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پر سرنڈر کا الزام نہ لگایا جائے بلکہ مذاکرات کو افہام و تفہیم کا نام دیا جائے۔
فضل الرحمن