ایمانداری کی اعلیٰ مثال‘ سینئر بیوروکریٹ نے خلاف ضابطہ اعزازیہ واپس کردیا

اسلام آباد (کسور کلاسرہ/ دی نیشن رپورٹ) ایک پاکستانی سینئر بیوروکریٹس نے ایمانداری اور نیک نامی کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔ اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو سید گلزار حسنین شاہ نے دو ماہ کی تنخواہ کے برابر ملنے والا اعزازیہ یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ وہ اسکے اہل نہیں ہیں۔ ’’دی نیشن‘‘ کو ملنے والی دستاویز کے مطابق وزارت خزانہ نے اعزازیہ وصول کرنیوالوں کی فہرست میں سید گلزار کا نام بھی شامل  کر دیا۔ تاہم گلزار نے حیران کن طور پر اعزازیہ لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ سیکرٹری فنانس انہیں اس طرح کا اعزازیہ دینے کی متعلقہ اتھارٹی نہیں ہیں۔ اپنے تحریری جواب میں انہوں نے اپنا نام فہرست میں شامل کرنے پر شکریہ کرتے ہوئے کہا کہ میرا پرنسپل اکاؤنٹنٹ آفیسر کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس ہے اور مجھے اعزازیہ بھی صرف وہ ہی دے سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ادارے کے تمام سٹاف کیلئے ایک تنخواہ کے برابر اعزازیہ منظور کیا گیا لہٰذامجھے دو اعزازیے نہیں دیئے جا سکتے۔ واضح رہے وزارت خزانہ کے ایک درجن کے قریب بیوروکریٹس کو اس حکومت کا پہلا بجٹ پیش کرنے پر ایک کروڑ روپے اعزازیہ وصول کرنے پر تحقیقات کا سامنا ہے۔ ایک آڈٹ رپورٹ میں اسی اعزازیہ کو خلاف ضابطہ قرار دیا گیا تھا۔
بیوروکریٹ/ اعزازیہ واپس