افسروں کی عدم توجہ‘ مارکیٹ کمیٹیاں غلہ منڈیاں مصنوعی مہنگائی کا باعث بن گئیں

لاہور (ندیم بسرا) محکمہ زراعت پنجاب اور ایگری کلچر مارکیٹنگ کے افسران کی عدم توجہ سے صوبے بھر میں 364 کے قریب مارکیٹ کمیٹیاں، غلہ منڈیاں اور مارکیٹیں سہولتیں دینے کی بجائے مصنوعی مہنگائی اور ناپ تول میں کمی کا باعث بننے لگیں۔ مارکیٹ کمیٹیوں میں نکالے جانے والے روزانہ کے سبزیوں، پھلوں اور گوشت کے نرخ ہی مصنوعی مہنگائی کا سبب بنتے ہیں۔ افسرن عمل درآمد کرانے میں مکمل ناکام ہو گئے۔ یہ صورتحال زرعی ملک کے زرخیز صوبے میں پنجاب صارفین اور کسانوں کیلئے درد سر بن گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے محکمہ زراعت پنجاب کے اعلیٰ افسران کی عدم توجہ سے مارکیٹ کمیٹیوں کا شعبہ غیر فعال ہو گیا۔ پنجاب کی مارکیٹ کمیٹیوں میں سیکرٹری کئی کئی برسوں سے تعینات ہیں جن پر بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات ہیں مگر وہ سیاسی بنیادوں پر ایک ہی سیٹ پر کئی کئی برس سے کام کر رہے ہیں۔ مارکیٹ کمیٹی کے افسر آڑھتیوں کے ساتھ مل کر قیمتیں مقرر کرتے ہیں جن پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ مزید بتایا گیا ہے ایگری کلچر مارکیٹنگ پنجاب کے افسران تقریباً 80 کروڑ روپے سالانہ فیسوں کی مد میں اکٹھے کئے جاتے ہیں مگر ایگری کلچر مارکیٹنگ کے افسران فیس کی مد میں اکٹھی کی گئی رقم ترقیاتی کاموں پر لگانے کی بجائے زیادہ تر فنڈز خورد برد کر لئے جاتے ہیں۔ پنجاب میں اس وقت 134 مارکیٹ کمیٹیاں ہیں جن میں 34 اے، 46 بی اور 54 سی کیٹیگری کی ہیں جس میں 95 کے قریب فوڈ اینڈ ویجی ٹیبل منڈیاں، 149 غلہ منڈیاں اور 81 فیڈر مارکیٹ ہیں۔ لاہور میں قائم بڑی 4 منڈیاں لاہور، بادامی باغ لاری اڈا، علامہ اقبال ٹائون اور سنگھ پورہ ہیں جہاں کوڑے کے ڈھیروں پر پھل فروخت کئے جاتے ہیں۔ سبزی، پھل، اجناس کی منڈیوں میں صفائی کا انتظام نہ ہونے سے طرح سرح کی بیماریاں سبزیوں اور پھلوں میں منتقل ہو کر انسانوں کو بیمار کرتی ہیں۔ کسانوں سے اچھے قسم کے پھل، سبزیاں مارکیٹ میں لانے کی بجائے ایڈمنسٹریٹر سمیت دیگر کے گھروں میں پہنچا دی جاتی ہیں، صارف کو کہیں بھی سہولت نہیں دی جا رہی۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر زراعت سے مطالبہ کیا ہے نااہل افسران کا قبلہ درست کیا جائے۔
مارکیٹ کمیٹیاں