پنجاب میں مظلوم خواتین کی دادرسی کیلئے قائم 12 ویمن کرائسز سنٹر خود مسائل کا شکار

لاہور (رفیعہ ناہیداکرام سے) پنجاب میں مظلوم خواتین کی دادرسی کیلئے قائم 12 ویمن کرائسز سنٹرز خود ’’کرائسز‘‘ کا شکار ہوکر رہ گئے۔ وسائل کی شدید قلت، کرائے کی تنگ عمارتوں اور خالی اسامیوںکے باعث انتظامیہ کیلئے معاشرتی ناانصافیوں اور ظلم کی ستائی خواتین کو ریلیف کی فراہمی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگئی۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق سے صوبے کو منتقل ہونے والے سنٹروں کو پنجاب حکومت نے ’’دل سے تسلیم‘‘ نہیں کیا جبکہ محکمہ سوشل ویلفیئرکی عدم توجہ اور روایتی غفلت کی وجہ سے مسائل شدت اختیار کرگئے۔ سینٹرز کے مسائل کو حل کرنے کیلئے تاحال محکمہ سوشل ویلفیئر کی طرف سے کوئی ڈیسک یا افسر مقرر نہیں کیا جاسکا۔ سنٹرز کا بجٹ تاحال ریگولر نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے سہ ماہی پراجیکٹ بجٹ دیا جاتا ہے جو ہر دفعہ تاخیر کا شکار ہونے کے باعث سٹاف کی تنخواہیں، عمارتوں کے کرائے، پٹرول کے اخراجات، وکلاء کی فیسیں، گاڑیوں کی مرمت و دیگر خریداریوں سمیت تمام کام رک جاتے ہیں۔ صوبہ بھر میں منیجر، سوشل ویلفیئر آفیسرز، لاء آفیسرز، اسسٹنٹ منیجرز، سکیورٹی گارڈز، ڈرائیورز اور خاکروب کی 17 اسامیاں خالی ہیں۔ ڈی جی خان اور سیالکوٹ کے ویمن سنٹرز منیجرز کے بغیرچل رہے ہیں جبکہ دہشتگردی کے خطرات کے باوجود لاہور اور بہاولپور میں سیکورٹی گارڈز کی اسامیاں خالی ہیں جبکہ ڈی جی خان اور ساہیوال میں کوئی خاکروب موجود نہیں۔ بعض سنٹرز میں لاء آفیسرز اور متاثرہ خواتین کو عدالت لانے لیجانے کیلئے گاڑیاں موجود نہیں، نئی سہ ماہی کے 35 روز گزر جانے کے باوجود تاحال سپلیمنٹری گرانٹ تاحال نہیں مل سکی جس سے ملازمین کی تنخواہیں، عمارتوںکے کرائے، گاڑیوںکیلئے پٹرول سمیت تمام معاملات تاخیرکا شکار ہیں۔ ویمن کرائسز سنٹر لاہورکی منیجر رابعہ عثمان نے بتایا کہ بجٹ کی بروقت فراہمی نہ ہونے سے مظلوم خواتین کی دادرسی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔