ٹربیونل کا فیصلہ تحریک انصاف کیلئے علامتی فتح، انتخابی جیت کیلئے داخلی احتساب کرنا ہوگا

لاہور (جواد آر اعوان/ نیشن رپورٹ)پیر کے روز الیکشن ٹربیونل نے سعد رفیق کے حلقے این اے 125 پر الیکشن کو کالعدم قرار دیکر تحریک انصاف کو علامتی فتح دلا دی ہے۔ تاہم اب تحریک انصاف کو اشد ضرورت ہے کہ وہ داخلی احتساب کے ذریعے اس علامتی فتح کو انتخابی جیت میں تبدیل کرے۔ تحریک انصاف کے سینئر رہنمائوں کے مطابق این اے 125 اور پی پی 155 پر دوبارہ الیکشن کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کو ان حلقوں پر ضمنی انتخابات میں جیت کیلئے سخت محنت اور داخلی احتساب کرنا ہوگا۔ والٹن کنٹونمنٹ بورڈ کا بڑا حصہ این اے 125 میں آتا ہے اور تحریک انصاف نے بورڈز کے حالیہ الیکشن میں یہاں 10 میں سے صرف وارڈ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ پارٹی رہنمائوں نے بورڈز کے بلدیاتی انتخابات میں ناقص کارکردگی پر ضلعی رہنمائوں نے بورڈز کے بلدیاتی انتخابات میں ناقص کارکردگی پر تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ واضح رہے لاہور میں دو کنٹونمنٹ بورڈز کی 20 نشستوں میں سے صرف 5 پر تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کی تھی۔ عمران خان پارٹی میں داخلی انتشار، 9 بورڈز الیکشن میں امیدواروں کے غلط انتخاب کے حوالے سے نوٹس لے کر چودھری سرور کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے۔ کمیٹی کو خاص طور پر لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ سرگودھا اور سیالکوٹ پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، وقار خان، رانا سلیم، شبیر سیال سمیت پارٹی کے پرانے کارکنوں نے کہا کہ پارٹی میں پوری اہلیت ہے کہ ٹربیونل کے فیصلے سے ملنے والی حالیہ علامتی فتح کو انتخابی جیت میں تبدیل کردے مگر اس کیلئے سب سے پہلے لاہور کے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں شکست کے ذمہ دار پارٹی رہنمائوں کا کڑا احتساب ضروری ہے۔ بورڈز الیکشن میں ناکامی کی ذمہ داری کا تعین کئے ضمنی الیکشن میں فتح کیلئے کارکنوں میں جوش پیدا نہیں کیا جاسکتا۔