محکمہ صحت کی عدم توجہ، فزیوتھراپی ڈاکٹر کی بجائے آرتھوپیڈک سرجن کو کمیٹی چیئرمین بنادیا

لاہور (ندیم بسرا) محکمہ صحت پنجاب کی عدم توجہ اور نااہلی کے باعث پاکستان فزیو تھراپی کونسل کو بھجوائے جانے والے ڈرافٹ کی کمیٹی کا چیئرمین فزیوتھراپی ڈاکٹر کی بجائے آرتھو پیڈک سرجن کو بنا دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے متعدد بار پنجاب محکمہ صحت  کو پاکستان فزیوتھراپی کونسل کی سفارشات مانگیں برسوں کے بعد محکمہ صحت پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹرمحسن نے محکمہ صحت پنجاب کے زیرانتظام کمیٹی بنانے کی بجائے وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر فیصل مسعود کو لیٹر بھجوا دیا اور ان سے فوری کمیٹی بنانے کی ہدایات کیں جس پر پروفیسر فیصل مسعود نے فزیو تھراپی ایسوسی ایشن یا سینئر فزیوتھراپسٹ سے رابطہ کرنے کی بجائے آرتھوپیڈک سرجن کنگ ایڈورڈ پروفیسر سید محمد اویس کو کمیٹی کا سربراہ بنا دیا۔ اس کمیٹی میں میو ہسپتال کی سکول آف فزیو تھراپی ڈاکٹر صالحہ سلیم بخاری، ڈاکٹر ظہیر الدین بابر، ڈاکٹر شاہد احمد، ڈاکٹر ام البنین، ڈاکٹر عامر سعید بھی شامل ہیں۔ پاکستان فزیکل تھراپی ایسوسی ایشن پنجاب چیپٹر کے صدر ڈاکٹر عامرسعید نے محکمہ صحت کنگ ایڈورڈ وائس چانسلر کی طرف سے کمیٹی کا چیئرمین آرتھو پیڈک سرجن بنانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہاکہ آرتھوپیڈ کے مسئلے کا فزیو تھراپی میں کوئی کردار نہیں ہے۔ اس کمیٹی کی سفارشات صرف فزیوتھراپسٹ ہی تیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے اندر پاکستان فزیو تھراپی کونسل موجود نہیں جس کی وجہ سے فزیو تھراپی ڈاکٹروں کا کوئی مستقبل نہیں پنجاب کے اندر صرف فزیوتھراپی ڈاکٹرز کی 100 سیٹیں ہیں جب کہ 4 ہزار فزیوتھراپسٹ بے روزگار ہیں۔ انہوں نے وزیراعلی پنجاب سے مطالبہ کیا کہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے اور حکومت نے اس کمیٹی کے سربراہ کو تبدیل نہ کیا تو ہم احتجاج کریں گے۔