لاہور ہائی کورٹ نے ڈاکٹر مجاہد کامران کی اہلیہ شازیہ قریشی کی بطور ڈین اور پروفیسر ترقی وتقرری کالعدم قرار دے دی

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹرجسٹس سید منصور علی شاہ نے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کی اہلیہ شازیہ قریشی کی لاء کالج میں بطور ڈین اور پروفیسر ترقی و تقرری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر تنزلی کا حکم جاری کر دیا۔درخواست گزار جاوید سمیع نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے سینڈیکیٹ اور سینٹ کی منظوری کے بغیر میرٹ سے ہٹ کر اپنی اہلیہ کو لاء کالج کی پروفیسر،ڈین اور پھر پرنسپل کے عہدے پر ترقی دی۔یہ اقرباء پروری اور میرٹ کی دھجیاں بکھیرنے کی بد ترین مثال ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وائس چانسلر نے سلیکشن بورڈ کی منظوری کے بعد سربراہ کی حیثیت سے قانونی یقاضے پورے کر کے شازیہ قریشی کو اگلے عہدوں پر ترقی دی۔ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کی اہلیہ شازیہ قریشی کی بطور ڈین اور پروفیسر ترقی و تقرری کالعدم قرار دے دی۔