سرکاری محکموں میں بدعنوانی کے باعث انٹی کرپشن کورٹس میں مقدمات کی شرح بڑھنے لگی

لاہور (شہزادہ خالد) حکومتی عدم توجہی سے سرکاری محکموں میں بڑھتی ہوئی کرپشن کے باعث انٹی کرپشن کورٹس میں مقدمات کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ لاہور کی انٹی کرپشن کورٹس میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 2485 ہوگئی۔ انٹی کرپشن کورٹ I میں رواں سال کے پہلے 4 ماہ کے دوران 171 مقدمات دائر ہوئے۔ اینٹی کرپشن کورٹ دن میں ایک ماہ میں 35 کے قریب نئے کیسز سماعت کیلئے آتے ہیں اور 25 کے قریب مقدمات کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ اینٹی کرپشن کورٹ 2 میں گزشتہ برس 261 مقدمات دائر کئے گئے، 161 کیس نمٹا دیئے گئے اور 16 کیس دوسری عدالتوں میں ٹرانسفر کئے گئے جنوری 2014ء میں 39، فروری میں 43، مارچ میں48 اور اپریل میں 44 کیس دائر ہوئے۔ عاصم ملک ایڈووکیٹ نے کہا کہ چیف جسٹس کے سپیڈی ٹرائل کے حکم کے باوجود 9 برس بعد ایک کیس کا فیصلہ کیا گیا جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ عدالتی اہلکار نے بتایا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث عدالتوں میں موم بتیاں جلا کر کام کرنا پڑتا ہے جس سے مقدمات کی سماعت بار بار ملتوی کرنا پڑتی ہے۔ جنریٹر کا کوئی انتظام نہیں جس سے خاصی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کے پاس میٹل ڈیٹیکٹر نہیں ہیں۔ واک تھرو گیٹ نہ ہونے سے سکیورٹی کے مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ مشفق احمد خاں ایڈووکیٹ، ندیم بٹ، طارق عزیز، عارف ملہی، ندیم حیدر اور چودھری ولایت ایڈووکیٹ نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شیخوپورہ، قصور اور دیگر دوردراز کے کیس بھی لاہور میں سماعت کئے جاتے ہیں جس سے سائلوں اور وکلاء کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیڈی ٹرائل کیلئے ہر ضلع میں انٹی کرپشن کورٹس بنائی جائیں۔