حکومت پنجاب کا پولیس کے سپیشل پروٹیکشن یونٹ میں تعیناتی کیلئے دو ہزار آسامیوں کی منظوری دینے سے انکار

لاہور (معین اظہر سے) حکومت پنجاب نے پولیس کو غیرملکیوں کی سکیورٹی کے لئے سپیشل پروٹیکشن یونٹ میں تعیناتی کے لئے 2 ہزار اسامیوں کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔ آئی جی پنجاب نے کابینہ کی کمیٹی برائے امن و امان کے اجلاس میں سپیشل پروٹیکشن یونٹ میں بھرتی کے لئے دو ہزار اسامیوں کی منظوری کی درخواست کی تھی جس پر وزیر قانون اور چیف سیکرٹری کی مخالفت پر فیصلہ ہوا ہے کہ پولیس کی جو 12 ہزار اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں ان پر بھرتی کی جاسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے غیرملکیوں جو پنجاب میں مختلف پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں کی حفاظت کے لئے سپیشل پروٹیکشن یونٹ بنانے کا فیصلہ کیا، ابتدائی طور پر پولیس سے 2 ہزار تجربہ کار سٹاف کو اس میں ڈیپوٹیشن پر بھجوایا جائے گا جس میں جو لوگ پروٹیکشن یونٹ میں تعینات ہونگے ان کو کم از کم تین سال تک اس یونٹ میں تعینات ہونا پڑے گا جس کی منظور ی دے دی گئی۔ کابینہ کی کمیٹی برائے امن و امان کا اجلاس صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں وزیر ماحولیات، چیف سیکرٹری ، آئی جی ، ہوم سیکرٹری ، رانا مقبول احمد مشیر وزیر اعلیٰ، برئگیڈئیر انیس احمد ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے شرکت کی۔ اجلاس میں آئی جی پنجاب نے اس پروٹیکشن یونٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز دیں۔  چیف سیکرٹری پنجاب نے آئی جی پنجاب سے کہا کہ پولیس کو نئی 2 ہزار اسامیوں کی منظوری دینے کی بجائے موجودہ منظور شدہ خالی اسامیوں پر 2 ہزار افراد کو بھرتی کر لیا جائے اور ان کو غیرملکیوں کی سکیورٹی پر تعینات کر دیا جائے۔ اس میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ جو ڈی ایس پی ، ایس پی اور دیگر عملہ اس پروٹیکشن یونٹ میں تعینات کیا جائے گا ان کی تعیناتی کا عرصہ کم از کم تین سال ہو گا تاہم جہاں پر 15 تک غیرملکی ہونگی ان کی سکیورٹی کا انچارج سب انسپکٹر ہوگا  جبکہ 30 سے زیادہ غیر ملکیوں کی سکیورٹی کا انچارج انسپکٹر لیول کا افسر ہوگا ۔ اسی طرح 50 تک غیر ملکیوں کی سکیورٹی کا انچارج ڈی ایس پی کے عہدہ کا افسر ہو گا جبکہ 100 یا اس سے زیادہ غیر ملکیوں کی سکیورٹی کا انچارج ایس پی کے عہدہ کا افسر ہوگا۔