اسامہ کی مخبری کرنیوالے شکیل آفریدی کیخلاف نفرت نے قبائلی علاقوں میں پولیو پھیلایا

 لاہور (ندیم بسرا) پولیو مہم کی آڑ میں اسامہ بن لادن کیخلاف آپریشن میں مرکزی کردار ادا کرنیوالے مخبر ڈاکٹر شکیل آفریدی کی گرفتاری اور اسکے ردعمل میں ہونیوالے پولیو ورکرز پر حملوں نے 2012ء سے فاٹا، خیبر پی کے میں پولیو مہم کو بند کردیا۔ 2010ء سے پولیو فری ملک چلنے والے پاکستان پر 2012ء میں پھر پولیو نے حملہ کردیا۔  2013ء  ، 2014ء میں پولیو کیسز مسلسل سامنے آنے سے عالمی ادارہ صحت نے پاکستانی شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کردی۔ رواں برس پاکستان کے مختلف علاقوں میں 55 کیسز سامنے آگئے۔ حکومت کی مسلسل توجہ کے باعث پاکستان میں 2010ء میں پولیو مکمل طور پر ختم ہوگیا تھا۔ 2011ء میں بھی کوئی کیس تصدیق نہ ہوا مگر اسامہ بن لادن کی مخبری کرنیوالے ایجنٹ ڈاکٹر شکیل آفریدی کیخلاف نفرت نے قبائلی علاقوں میں اسکو پھیلا دیا۔ فاٹا، کے پی کے  اور سندھ میں بسنے والے پختونوں نے 2012ء  سے پولیو مہم کا بائیکاٹ کردیا اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں 9 سے 11 پولیو ورکرز کو ہلاک کیا گیا۔ اس صورتحال نے پولیو مہم کو نقصان پہنچایا جس کا خمیازہ پوری قوم کو سفری پابندیوں کی صورت میں سامنا کرنا پڑا۔ 2012ء سے اب تک پولیو مہم وزیرستان، فاٹا اور کے پی کے مختلف علاقوں میں 100 فیصد مکمل نہ ہوسکی۔ 2014ء میں کے پی کے میں 9، فاٹا میں 42، سندھ میں 4 پولیو کے کیس سامنے آئے۔ عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کے شہریوں پر 6 ماہ کی سفری پابندیاں عائد کی ہیں۔ 6 ماہ کے بعد اس فیصلے کو بڑھانے کے بارے میں فیصلہ سنایا جائیگا۔ پنجاب کے ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر زاہد پرویز نے نوائے وقت کو بتایا پنجاب میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ حکومت پنجاب نے اس حوالے سے مختلف انتظامات کئے ہیں۔ بین الصوبائی حدود میں تمام راستوں پر چیک پوسٹیں بنائی ہیں پنجاب میں داخل ہونیوالے تمام شہریوں کو چیک کرکے اگر ساتھ بچے ہوں تو انکو قطرے پلائے جاتے ہیں۔ پنجاب میں پختونوں اور پشتونوں کی آبادیوں میں پولیو مہم چلائی جاتی ہے۔ سفری پابندیوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا سرکاری ہسپتالوں میں شہریوں کو پولیو سرٹیفکیٹ دینے کیلئے خصوصی ڈیسک قائم کردیئے ہیں۔ اب بیرون ملک سفر کرنیوالے پاکستانی کو پولیو قطرے لازمی پینا پڑیں گے۔ انکے فنگر پرنٹس بھی لئے جائیں گے۔