مصر میں فوجی بغاوت کی حمایت کرنے والے مسلم ممالک اپنے رویے کا جائزہ لیں: منور حسن

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے کہا ہے کہ مصر میں آمریت کے چالیس سالہ اندھیروں کو اجالوں میں بدلنا صدر مرسی کا جرم قرار پایا ہے۔ امریکہ اور مغرب جمہوریت کے ذریعے بھی اسلام کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتے، امریکہ نے اسلامی دنیا میں ہمیشہ آمریت کو پروان چڑھایا اور فوجی و نام نہاد جمہوری آمروں کی سرپرستی کی ہے، امریکہ اسلام کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنا چاہتا ہے۔ مغرب نے اسلام دشمنی کی روش نہ چھوڑی تو عالم اسلام کا شدید ردعمل سامنے آئے گا ۔ درجنوں اسلامی ممالک میں اسلامی تحریکوں کی جمہوری اور سیاسی ذریعے سے تبدیلی کی کوششوں کو سبوتاژ کیا گیا۔ ہمارے امن پسند رویے کو کمزوری سمجھنے والے جان لیں کہ اگر انہوں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو دنیا بھر کے مسلمان ظلم و جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ مصر کے واقعہ نے ثابت کردیاہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور اور دکھانے کے اور ہیں۔ مغربی دنیا کی مسلم ممالک میں مداخلت نے جہاد کے ذریعے تبدیلی لانے والوں کے موقف کو تقویت دی ہے۔ اسلامی ممالک میں سے صرف ترکی نے مصر میں فوجی بغاوت کے خلاف اپنے جرا¿تمندانہ م¶قف سے امت کی ترجمانی کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ آڈیٹوریم میں ”مصر میں فوجی بغاوت، تجزیہ اور اثرات“ پر منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب اور بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ منور حسن نے کہاکہ اسلامی ممالک اور پاکستانی حکمرانوں نے امریکی خوف سے مصر کی منتخب حکومت کا تختہ الٹے جانے کی مذمت نہیں کی، جب تک عالم اسلام کے حکمران امریکہ اور مغرب کو اپنا دوست سمجھنے کی غلطی کرتے رہیں گے ذلت کا شکار رہیں گے۔ مصر میں فوجی بغاوت کی حمایت کرنے والے مسلم ممالک کو اپنے افسوسناک رویے کا جائزہ لینا چاہئے۔ عالم کفر کے ظلم وجبر نے لوگوں کو جہاد کا راستہ اختیارکرنے پر مجبورکیا ہے۔ نہتے طالبا ن امریکہ اور نیٹو کیلئے لوہے کے چنے ثابت ہوئے۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عبدالغفار عزیز نے کہاکہ جب سے صدر مرسی نے غزہ کی سرحد کھولی ہے، ان کی حکومت گرانے کے لئے امر یکہ اور اسرائیل کی سازشوں میں تیزی آگئی اور اب فوج کے سائے میں بننے والی عبوری حکومت نے پہلا حکم غزہ کی سرحد بند کرنے کا جاری کیا ہے۔
منور حسن