لاہور ہائیکورٹ کا فوج کو اپنے ملازم کا کورٹ مارشل روکنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا فوج کو اپنے ملازم کا کورٹ مارشل روکنے کا حکم

لاہور (بی بی سی) لاہور ہائیکورٹ نے فوج کو اپنے ایک ملازم کا کورٹ مارشل کرنے سے روک دیا ہے۔ جسٹس مظہر اقبال سندھو نے بری فوج کے صدر دفتر کو حکم دیا ہے کہ نائب صوبیدار الیاس کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی روک کر اس مقدمے کی تفصیل عدالت کے سامنے پیش کی جائے۔ میڈیکل کور کے اس ملازم کو دو برس قبل کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا تھا تاہم فوجی حکام نے چند روز قبل ہی اس کے زیرحراست ہونے اور اس کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔ عدالت نے کورٹ مارشل کی کارروائی کے جواز کو تسلیم نہ کرتے ہوئے جی ایچ کیو کو حکم دیا ہے کہ وہ اس مقدمے کو ہائیکورٹ کے سامنے پیش کرے۔ ملزم کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق کسی بھی سویلین عدالت کی جانب سے کورٹ مارشل کی کارروائی کو روکنے کی نظیر پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے اس مقدمے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ نائب صوبیدار الیاس ایک سال سے زائد ’گمشدہ‘ رہنے کے بعد پچھلے سال اس وقت منظر عام پر آئے جب عدالتِ عالیہ کے حکم پر جہلم کی پولیس نے انہیں راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میں تلاش کر لیا۔ طلب کرنے پر جی ایچ کیو حکام نے عدالت کو بتایا کہ الیاس پر غبن اور بدعنوانی کے الزامات ہیں جن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔